فون پے کو آئی پی اوکے لیے سیبی کی منظوری مل گئی
نئی دہلی، 20 جنوری (ہ س)۔ مارکیٹ ریگولیٹر سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) نے یوپی آئی ادائیگی کرنے والی معروف کمپنی فون پے کو ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) لانچ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس آئی پی اومیں فون پے کی قد
PhonePe-IPO-SEBI-Approval


نئی دہلی، 20 جنوری (ہ س)۔ مارکیٹ ریگولیٹر سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) نے یوپی آئی ادائیگی کرنے والی معروف کمپنی فون پے کو ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) لانچ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس آئی پی اومیں فون پے کی قدر تقریباً 15ارب ڈالر ہو سکتی ہے۔ اس آئی پی اوکے ذریعے، فون پے کا مقصد پرائمری مارکیٹ سے تقریباً 12,000 کروڑ روپے اکٹھا کرنا ہے۔ یہ پورا ایشو آفر فار سیل (او ایف ایس) ہوگا، یعنی پروموٹرز اور موجودہ سرمایہ کار ہی اس ایشو کے ذریعے اپنے حصص فروخت کریں گے۔ اس میں کوئی نیا شیئر جاری نہیں کیا جائے گا۔

فون پے نے ستمبر 2025 کے آخری دنوں میں کانفیڈنشیل پری فائلنگ روٹ کے ذریعے سیبی کو اپنے آئی پی اوکے لیے ڈرافٹ پیپرز جمع کئے تھے۔ فون پے کی جانب سے اگلے چند دنوں میں سیبی کو ایک اپڈیٹیڈ ڈرافٹ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی ) جمع کرایا جا سکتا ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ اس آئی پی او میں فون پے کی پیرنٹ کمپنی والمارٹ اپنی کچھ حصہ داری فروخت کر سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ، فون پے کے دیگر سرمایہ کاروں میں سے مائیکروسافٹ اور ٹائیگر گلوبل بھی اس ایشو کے ذریعے اپنی حصہ داری کم کر سکتے ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ تینوں کمپنیاں اپنے حصص کا تقریباً 10 فیصدآفر فار سیل کے ذریعے فروخت کر سکتی ہیں۔ آئی پی او کے لئے مورگن اسٹینلے، کوٹک مہندرا کیپٹل، جے پی مورگن اور سٹی بینک جیسے بڑے انوسٹمنٹ بینک ایڈوائزر کے طور پر وابستہ ہیں۔ ان بینکوں کا مقصد فون پے کو اسٹاک مارکیٹ میں تقریباً 15ارب ڈالر کیقدر پر لسٹ کرنا ہے۔

قابل غور ہے کہ اگر فون پے کا آئی پی اوکامیاب ہوتا ہے، تو یہ ملک میں نیو اکنامی شعبے میں دوسری سب سے بڑی لسٹنگہوگی۔ اس سے پہلے، 2021 میں، پے ٹی ایم کے آئی پی اوکی قیمت تقریباً 20ارب ڈالر قدر آئی تھی ۔ پے ٹی ایم کا ایشو کا حجم تقریباً 18,000 کروڑ روپے تھا۔ فون پے کا آئی پی اوپے ٹی ایم کے تقریباً دو تہائی سائز کا ہوگا، لیکن یہ سیکٹر کے لحاظ سے دوسرا سب سے بڑا ہوگا۔

مارکیٹ شیئر کے لحاظ سے، فون پے کے پاس یوپی آئی پلیٹ فارم کی تقریباً 45 فیصد حصہ داری ہے، جبکہگوگل پے تقریباً 35 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ فون پے ہر ماہ تقریباً 10ارب ٹرانزیکشنز پر کارروائی کرتا ہے، جس کی کل مالیت تقریباً 12 لاکھ کروڑ روپے ہوتی ہے۔ ملک میں تقریباً 85 فیصد ڈیجیٹل ادائیگیاں یوپی آئی پلیٹ فارم کے ذریعے کی جاتی ہیں۔ نتیجتاً، فون پے فی الحال ملک میں ڈیجیٹل لین دین میں سرفہرست ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande