اے آئی کا مقصد ہر ایک کی زندگی کو بہتر بنانا ہونا چاہئے: ستیہ ناڈیلا
داووس/نئی دہلی، 20 جنوری (ہ س): دنیا کی سب سے بڑی سافٹ ویئر کمپنی مائیکروسافٹ کے سی ای او ستیہ نڈیلا نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا مقصد تعلیم سے لے کر پبلک سیکٹر کی کارکردگی تک ہر ایک کی زندگی کو بہتر بنانا ہونا چاہیے۔ نڈیلا نے یہ ریمارکس منگ
نڈیلا


داووس/نئی دہلی، 20 جنوری (ہ س): دنیا کی سب سے بڑی سافٹ ویئر کمپنی مائیکروسافٹ کے سی ای او ستیہ نڈیلا نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا مقصد تعلیم سے لے کر پبلک سیکٹر کی کارکردگی تک ہر ایک کی زندگی کو بہتر بنانا ہونا چاہیے۔

نڈیلا نے یہ ریمارکس منگل کو سوئٹزرلینڈ کے شہرداووس میں ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) 2026 کے 56ویں سالانہ اجلاس کے دوران ایک سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اے آئی سے متعلق تمام بات چیت صرف سپلائی سائیڈ یا ٹیکنالوجی کمپنیوں پر مرکوز ہو تو یہ بلبلا ثابت ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اے آئی کے کردار کو زندگی کے تمام پہلوو¿ں میں جانچنے کی ضرورت ہے، جیسے کہ یہ فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو ضروری ادویات کو تیزی سے مارکیٹ میں لانے یا ٹرائلز کو تیز کرنے میں کس طرح مدد کر رہا ہے۔ انہوں نے محض اخراجات میں اضافے کے بجائے اے آئی سے چلنے والی اقتصادی ترقی کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے بتایا کہ کس طرح اے آئی اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز پیداواری صلاحیت کو بڑھا رہی ہیں اور ہمارے کام کرنے کے طریقے کو تبدیل کر رہی ہیں۔ نڈیلا نے کہا کہ ایک عالمی برادری کے طور پر، ہمیں اس مقام تک پہنچنے کی ضرورت ہے جہاں ہم لوگوں، کمیونٹیز، ممالک اور صنعتوں کے لیے مفید، تبدیلی کے نتائج کو کچھ کرنے کے لیے اے آئی کا استعمال کریں۔

مائیکروسافٹ کے سی ای او ستیہ نڈیلا نے عوامی نجی تعاون کی ضرورت پربھی زور دیا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ توانائی کا مناسب انفراسٹرکچر اے آئی انقلاب کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی کے فوائد کو مساوی طور پر تقسیم کرنے کی ضرورت ہے۔

داووس میں 19 سے 23 جنوری تک ہونے والے اس عالمی اجتماع میں تقریباً 65 سربراہان مملکت و حکومت شرکت کر رہے ہیں۔ تقریباً 130 ممالک کے 3000 سے زائد رہنماوں کی شرکت متوقع ہے۔ اس کانفرنس کا موضوع ”مکالمہ کی روح“ ہے۔ ڈبلیو ای ایف 2026 کلیدی مسائل جیسے کہ جغرافیائی سیاست، معاشیات، ترقی، ٹیکنالوجی اور ماحولیات پر تبادلہ خیال کرے گا۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande