
ایم پی کے اندور میں آلودہ پانی پینے سے 15 ویں موت، راہل گاندھی نے حکومت پر نشانہ سادھا، کہا- شہر میں زہر تقسیم کیا
حکومت نے ہائی کورٹ میں پیش کی اسٹیٹس رپورٹ، بتایا- صرف چار اموات ہوئیں
اندور، 02 جنوری (ہ س)۔
مدھیہ پردیش کے اندور شہر کے بھاگیرتھ پورا میں آلودہ پانی پینے سے اموات کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ یہاں آج ایک اور مریض کی موت ہو گئی۔ ایک 60 سالہ خاتون نے علاج کے دوران دم توڑ دیا۔ شہر میں آلودہ پانی سے یہ 15 ویں موت ہے۔
معاملے میں جمعہ کو ریاستی حکومت نے اپنی اسٹیٹس رپورٹ بھی ہائی کورٹ میں پیش کر دی ہے۔ اسٹیٹس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گندے پانی سے اب تک صرف چار اموات ہوئی ہیں۔ مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے 6 جنوری کو سماعت کی اگلی تاریخ طے کی ہے۔ ادھر معاملے کو لے کر سیاست بھی شروع ہو گئی ہے۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ اندور میں پانی نہیں، زہر بانٹا گیا ہے۔ وہیں، اوما بھارتی نے کہا ہے کہ اس گناہ کا کفارہ دینا پڑے گا۔
اندور کے بھاگیرتھ پورا میں سپلائی کردہ آلودہ پانی پینے سے بیمار ہوئیں 68 سالہ گیتا بائی کو گزشتہ 24 دسمبر کو ایم وائی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، جہاں جمعہ کو صبح ان کی موت ہو گئی۔ شہر میں آلودہ پانی سے یہ 15 ویں موت ہے۔
اندور سی ایم ایچ او ڈاکٹر مادھو ہسانی نے بتایا کہ آلودہ پانی پینے سے ہی لوگ بیمار پڑے اور ان کی جان گئی۔ آلودہ پانی سے متاثر 16 بچوں سمیت 201 لوگ الگ الگ اسپتالوں میں داخل ہیں۔ ان میں سے 32 لوگ آئی سی یو میں داخل ہیں۔ ڈاکٹر ہسانی کا کہنا ہے کہ سیمپل کی جانچ رپورٹ میں صاف طور پر تصدیق ہوئی ہے کہ آلودہ پانی پینے سے ہی لوگ بیمار پڑے اور ان کی جان گئی۔ وہیں، کلکٹر شوم ورما کا کہنا ہے کہ ڈیٹیلڈ رپورٹ کا انتظار ہے۔ میڈیکل کالج میں کلچر ٹیسٹ بھی کیا جا رہا ہے۔ اس کی رپورٹ آنے کے بعد ہی کچھ کہنا ٹھیک ہوگا۔
اس معاملے کو لے کر لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت پر حملہ بولا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ صاف پانی احسان نہیں، زندگی کا حق ہے۔ اس حق کے قتل کے لیے بی جے پی کا ڈبل انجن، اس کا لاپرواہ انتظام اور غیر حساس قیادت پوری طرح ذمہ دار ہے۔ ریاستی حکومت میں کابینہ وزیر کیلاش وجے ورگیہ کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے راہل گاندھی نے جمعہ کو سوشل میڈیا ایکس پر لکھا کہ گھر گھر پریشانی ہے۔ غریب تکلیف میں ہے، لیکن بی جے پی کے لیڈر گھمنڈ میں چور ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ اندور میں پانی نہیں، زہر بٹا اور انتظامیہ کمبھ کرنی نیند میں رہی۔ گھر گھر ماتم ہے، غریب بے بس ہیں اور اوپر سے بی جے پی لیڈروں کے متکبرانہ بیانات۔ جن کے گھروں میں چولہا بجھا ہے، انہیں تسلی چاہیے تھی، حکومت نے گھمنڈ پروس دیا۔ لوگوں نے بار بار گندے، بدبودار پانی کی شکایت کی، پھر بھی سنوائی کیوں نہیں ہوئی؟ سیور پینے کے پانی میں کیسے ملا؟ وقت رہتے سپلائی بند کیوں نہیں ہوئی؟ ذمہ دار افسران اور لیڈروں پر کارروائی کب ہوگی؟ یہ ’فوکٹ‘ سوال نہیں ہیں۔ یہ جوابدہی کی مانگ ہے۔ مدھیہ پردیش اب بدانتظامی کا ایپی سینٹر بن چکا ہے۔ کہیں کھانسی کی سیرپ سے اموات، کہیں سرکاری اسپتال میں بچوں کی جان لینے والے چوہے اور اب سیور ملا پانی پی کر اموات۔ جب جب غریب مرتے ہیں، مودی جی ہمیشہ کی طرح خاموش رہتے ہیں۔
کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی معاملے کو لے کر مرکزی حکومت پر حملہ بولا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا ایکس پر پوسٹ کر کہا کہ جل جیون مشن اور سوچھ بھارت ابھیان کا ڈھنڈورا پیٹنے والے نریندر مودی جی، ہمیشہ کی طرح اندور میں آلودہ پانی پینے سے ہوئی اموات کو لے کر خاموش ہیں۔ یہ وہی اندور شہر ہے جس نے مرکزی حکومت کے سوچھ سرویکشن میں مسلسل آٹھویں بار سب سے صاف ستھرے شہر کا خطاب جیتا ہے۔ یہ شرمناک بات ہے کہ یہاں پر بی جے پی کی بے حسی کے چلتے لوگ صاف پانی کے محتاج ہیں۔
اندور میں آلودہ پانی سے اموات کو لے کر سابق وزیر اعلیٰ اما بھارتی نے بھی بڑے سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا ایکس پر لکھا ہے کہ اندور آلودہ پانی کے معاملے میں یہ کون کہہ رہا ہے کہ ہماری چلی نہیں۔ جب آپ کی نہیں چلی تو آپ عہدے پر بیٹھے ہوئے بسلیری کا پانی کیوں پیتے رہے؟ عہدہ چھوڑ کر عوام کے درمیان کیوں نہیں پہنچے؟ ایسے گناہوں کی کوئی وضاحت نہیں ہوتی یا تو کفارہ یا سزا!
انہوں نے لکھا ہے کہ سال 2025 کے آخر میں اندور میں گندے پانی پینے سے ہوئی اموات ہماری ریاست، ہماری حکومت اور ہمارے پورے نظام کو شرمندہ اور داغدار کر گئیں۔ ریاست کے سب سے صاف ستھرے شہر کا ایوارڈ حاصل کرنے والے شہر میں اتنی بدصورتی، گندگی، زہر ملا پانی جو کتنی زندگیوں کو نگل گیا اور نگلتا جا رہا ہے، موت کے اعدادوشمار بڑھ رہے ہیں۔ زندگی کی قیمت دو لاکھ روپے نہیں ہوتی کیونکہ ان کے لواحقین زندگی بھر دکھ میں ڈوبے رہتے ہیں۔ اس گناہ کا سخت کفارہ ادا کرنا ہوگا، متاثرین سے معافی مانگنی ہوگی اور نیچے سے لے کر اوپر تک جو بھی مجرم ہیں انہیں زیادہ سے زیادہ سزا دینی ہوگی۔ یہ موہن یادو جی کے امتحان کا وقت ہے۔
ادھر، معاملے میں مدھیہ پردیش حکومت نے اپنی اسٹیٹس رپورٹ جمعہ کو ایم پی ہائی کورٹ کی اندور بنچ میں پیش کی، جس میں پانی سے صرف 4 موت ہونے کی بات کہی ہے۔ حکومت کی رپورٹ کی یہ حالت تب ہے، جب لوگوں کی 15 موت ہو چکی ہے۔ ان میں پانچ مہینے کے معصوم بچے سے لے کر بزرگ تک شامل ہیں۔ مہاتما گاندھی میموریل میڈیکل کالج کی لیب رپورٹ میں بھی پانی میں سیویج ملنے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ہائی کورٹ نے مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کی اگلی تاریخ 6 جنوری طے کی ہے۔ وہیں، انٹر وینر (مداخلت کار) گووند سنگھ بیس کی جانب سے میڈیا میں رپورٹ پبلش کرنے پر پابندی لگانے کی مانگ کی گئی۔ اس پر کورٹ نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن