
ممبئی کا میئر مہایوتی کا ہوگا، مراٹھی اور ہندو ہوگا : وزیر اعلیٰ
۔ بلدیاتی
انتخابات سے قبل فڑنویس کا دو ٹوک موقف
ممبئی
، 2 جنوری(ہ س)۔ ریاست
مہاراشٹر میں ممبئی سمیت 29 میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابات قریب آ چکے ہیں اور سیاسی
اتحاد و اختلافات پوری طرح نمایاں ہو رہے ہیں۔ ممبئی میں راج ٹھاکرے اور ادھو
ٹھاکرے نے انتخابی اتحاد کیا ہے، جسے نیشنلسٹ کانگریس شرد پوار گروپ کی حمایت حاصل
ہے۔ دوسری طرف شیو سینا ایکناتھ شندے گروپ اور بھارتیہ جنتا پارٹی اتحاد میں ہیں،
جبکہ اجیت پوار کی نیشنلسٹ کانگریس الگ مقابلہ کر رہی ہے۔ کانگریس اور ونچت بہوجن
آگھاڑی بھی مشترکہ طور پر میدان میں ہیں۔
ان سیاسی
حالات کے درمیان وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ممبئی کا
میئر مراٹھی ہی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سمجھنا غلط ہے کہ مراٹھی ووٹ بینک بھارتیہ
جنتا پارٹی کا نہیں ہے۔ ان کے مطابق اگر مراٹھی عوام نے بی جے پی کو ووٹ نہ دیا
ہوتا تو پارٹی مسلسل تین انتخابات میں کامیاب نہ ہوتی۔ فڑنویس نے کہا کہ مراٹھی
اور غیر مراٹھی، دونوں ہی بی جے پی کے ووٹر ہیں۔
ممبئی
میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ممبئی کا مراٹھی پن اور اس کی ثقافت کو کوئی بھی
ختم نہیں کر سکتا۔ چاہے لوگ کہیں سے بھی آئیں، ممبئی کی شناخت برقرار رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ پہلے شہر میں باہر سے مزدور آیا کرتے تھے، آج مختلف علاقوں کے لوگ
آ رہے ہیں، مگر ممبئی کی روح وہی رہے گی۔ گنیش اتسو کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے
کہا کہ یہ تہوار آج بھی روایتی مراٹھی انداز میں منایا جاتا ہے۔
فڑنویس
نے اعلان کیا کہ ممبئی کا میئر مہایوتی کا ہوگا، وہ ہندو ہوگا اور وہ مراٹھی ہی
ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی کی ثقافت اور سمت کو کسی بھی صورت میں بدلنے نہیں دیا
جائے گا۔
ٹھاکرے
برادران کے اتحاد پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ سو فیصد اس اتحاد کا
کریڈٹ لینے کو تیار ہیں۔ ان کے مطابق بالاصاحب ٹھاکرے کی خواہش تھی کہ دونوں بھائی
ایک ہوں، مگر وہ ایسا نہ کر سکے۔ فڑنویس نے کہا کہ اب یہ اتحاد بہت دیر سے ہوا ہے
اور اس سے کوئی انتخابی فائدہ نہیں ہوگا۔
انہوں
نے کہا کہ اگر یہ اتحاد 2009 میں ہوا ہوتا تو نتائج مختلف ہوتے، مگر اب دونوں
جماعتوں کی ووٹ فیصدی اتنی کم ہے کہ مراٹھی اور غیر مراٹھی ووٹر انہیں قبول نہیں
کریں گے۔ فڑنویس نے کہا کہ اس اتحاد سے انہیں کوئی پریشانی نہیں ہے اور وہ پورے
اعتماد کے ساتھ انتخابات جیتیں گے۔
ہندوستھان
سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے