


ہندوستان کا نوجوان بیدار ہوچکا ہے، وہ اپنے ملک کو بااختیار بنانا چاہتا ہے: سرسنگھ چالک موہن بھاگوت
بھوپال، 02 جنوری (ہ س)۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سرسنگھ چالک ڈاکٹر موہن بھاگوت نے کہا کہ ہندوستان کا نوجوان بیدار ہوچکا ہے، وہ اپنے ملک کو بااختیاربنانا چاہتا ہے۔ سنگھ اپنے قیام سے ہی ہدف لے کر چل رہا ہے کہ اپنے مذہب و ثقافت کا تحفظ کر کے، اپنے ہندوستان کو پرم ویبھو کے (عظیم الشان) مقام پر لے جانا ہے۔ سنگھ کا ہر سویم سیوک یہ عہد کرتا ہے۔
سرسنگھ چالک ڈاکٹر بھاگوت یہ باتیں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے صد سالہ سال کے سفر کے تحت یہاں کشابھاو ٹھاکرے آڈیٹوریم میں نوجوانوں سے خطاب میں کہہ رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک مکمل سماج کے تعاون سے ہی بڑا ہوتا ہے۔ لیڈر، پالیسی اور نظام، یہ سب تب معاون ہوتے ہیں، جب سماج خوبیوں سے مالا مال ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ہندوستان کا نوجوان بیدار ہوچکا ہے، وہ اپنے ملک کو بااختیار بنانا چاہتا ہے۔
دراصل، سرسنگھ چالک بھوپال میں جمعہ اور سنیچر کو دو روزہ دورے پر ہیں۔ انہوں نے آج پہلے دن کشابھاو ٹھاکرے آڈیٹوریم میں نوجوانوں سے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی جانب سے منعقد اس ’یووا سمواد‘ پروگرام میں خطاب کیا۔ اس میں مدھیہ بھارت پرانت (وسطی ہندوستان صوبہ) کے 16 سرکاری اضلاع کے نوجوانوں کو سرسنگھ چالک ڈاکٹر موہن بھاگوت کے ساتھ براہ راست بات چیت کرنے اور ان سے سوال کرنے کا موقع ملا۔ اس میں انہوں نے کہا کہ سنگھ نوجوانوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ سنگھ کی شاکھا میں آئیں یا پھر سنگھ کے منصوبے سے چل رہے اپنی دلچسپی کے کام میں منسلک ہو کر تعمیر وطن میں اپنا تعاون دیں۔
سرسنگھ چالک نے کہا، ”اگر ہمیں ملک کے لیے کچھ کرنا ہے تو اس راستے میں ہمیں خوبیوں کو اپنانا ہوگا اور انا و خود غرضی چھوڑنی ہوگی۔ دنیا میں سنگھ نے ہی واحد ایسا نظام دیا ہے، جو اچھی عادتیں پیدا کرتا ہے۔ سنگھ کے بانی ڈاکٹر ہیڈگیوار ہر شعبے میں کام کرتے تھے۔ لیکن انہیں فکر یہ تھی کہ ملک میں اتحاد کیسے قائم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس جذبے کو پیدا کرنے والی تنظیم کا نام راشٹریہ سویم سیوک سنگھ ہے اور دنیا میں شخصیت سازی کا کہیں دوسرا طریقہ نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ سنگھ کی شاکھا حب الوطنی کا درس دیتی ہے۔ اگر اس کا تجربہ لینا ہے اور مقصد کو جینا ہے تو شاکھا واحد جگہ ہے۔ جہاں کوئی بندھن نہیں ہے۔ سرسنگھ چالک نے اس دوران یہ بھی کہا کہ ”ہم کئی بار عدم تحفظ اور فکر کے ساتھ جیتے ہیں، لیکن اس کے بجائے ہمیں خوف سے آزاد ہو کر جینا چاہیے۔ خود سے پہلے ملک کو رکھنا چاہیے۔ اپنی ترقی سے ملک اور خاندان ترقی کر رہا ہے کہ نہیں یہ سوچنا چاہیے۔ نوجوانوں کو ہی ملک بنانا ہے اور وہ ہر بات میں آگے بھی آتے ہیں۔“
ڈاکٹر بھاگوت نے یہ بھی کہا، ”جب آپ ملک کی بات کرتے ہیں تو سوالوں کے جواب دینے ہوں گے اور اس کے لیے قابلیت لانی پڑے گی۔ سنگھ میں آکر تیار ہونا پڑے گا۔ میں نوجوانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور سنگھ کا تجربہ لیں۔“
پروگرام کے پہلے سیشن میں اکھل بھارتیہ سہ بودھک پرمکھ دیپک وسپوتے اور بھوپال کرونا دھام کے سربراہ سدیش شانڈلیہ مہاراج نے نوجوانوں سے خطاب کیا۔ اس موقع پر اسٹیج پر مدھیہ بھارت پرانت کے سہ سنگھ چالک ڈاکٹر راجیش سیٹھی موجود رہے۔
یووا سمواد میں سرسنگھ چالک ڈاکٹر بھاگوت نے نوجوانوں کے پوچھے گئے سوالوں کے جواب دیے۔ سو سال مکمل ہونے پر سنگھ کے کردار پر انہوں نے کہا کہ دنیا طاقت کی سنتی ہے اور سنگھ مکمل سماج کو ساتھ لے کر مذہب کی حفاظت کرتے ہوئے ملک کو نیا راستہ دکھاتا ہے۔ ہندوستان مہا شکتی اکٹھا کر رہا ہے۔ انہوں نے قلی فلم کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت نوجوان لال کرتا یا شرٹ پہنتے تھے۔ یعنی فیشن فالو کرتے ہیں۔
اے آئی کے سوال پر وہ بھاگوت نے کہا، ”ہمیں اے آئی کو کنٹرول کرنا ہے، نہ کہ کنٹرول ہونا ہے۔ اس کا استعمال ترقی میں کرنا ہے۔ ہمیں ایسے نوجوانوں کی تعمیر کرنا ہے جو اے آئی یا دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال ملکی مفاد میں کریں۔“
پروگرام کے پہلے سیشن میں اکھل بھارتیہ سہ بودھک پرمکھ دیپک وسپوتے نے سنگھ کے سو سال کے سفر پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ سنگھ کو 100 سال میں خوب شہرت ملی۔ لیکن سنگھ کا پرچار مخالفین نے منفی انداز میں کیا۔ انہوں نے کبھی سنگھ کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ سنگھ سال 1925 میں ناگپور سے شروع ہوا اور جس طرح بھاگیرتھ گنگا زمین پر لے کر آئے ٹھیک ویسے ڈاکٹر کیشو بلی رام ہیڈگیوار جی سنگھ کے کام کو سماج کے درمیان لے کر گئے۔ اس سے پہلے ہندوستان میں کبھی اس طرح کی کوشش نہیں ہوئی۔
بھوپال کرونا دھام کے سربراہ سدیش شانڈلیہ مہاراج نے نوجوانوں سے کہا کہ اکثر ہم سنتے ہیں ”سمرتھ کو نہیں دوش گسائیں“۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کوئی طاقتور ہے، اس کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جاتا۔ دراصل اہل وہ ہے جس کی نیت میں کھوٹ نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ باصلاحیت بنے گا، تبھی ہندوستان وشو گرو بنے گا۔ اس لیے سنگھ کا باصلاحیت ہونا ضروری ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن