
نئی دہلی، 2 جنوری (ہ س)۔سائنس و ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر مملکت (آزاد چارج) ؛ ارضیاتی سائنس؛ اور وزیرِ اعظم کے دفتر ، عملہ ، عوامی شکایات، پنشن، ایٹمی توانائی اور خلاءکے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت کی اصلاحاتی ایکسپریس سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت کے ذریعے چل رہی ہے، جہاں ٹیکنالوجی حکومت، انتظامیہ اور اقتصادی تبدیلی کی مرکزی قوت کے طور پر کام کر رہی ہے۔
مرکزی وزیر نے سائنس و ٹیکنالوجی کی وزارت اور ارضیات کی وزارت کی سال 2025 کی حصولیابیوں کو اجاگر کرنے سے متعلق پریس کانفرنس میں کہا کہ اگلی دو دہائیوں میں ملک کی ترقی جدت پر مبنی شعبوں جیسے خلائ ، سمندر، بایوٹیکنالوجی، صاف ستھری توانائی اور جدید مینوفیکچرنگ کے ذریعے آگے بڑھے گی۔اس پریس کانفرنس کا انعقاد دلّی میں کیا گیا ، جس میں بھارت کی سائنس کی وزارتوں سے اہم شخصیات نے شرکت کی اور سال 2025 ءکے دوران کئے گئے اقدامات اور ان سے حاصل ہونے والے اہم نتائج کو اجاگر کیا گیا۔ اس خلاصے سے پہلے ، ان اصلاحات اور مشن موڈ پروگرامز کا جامع طور پر جائزہ لیا گیا ، جن سے 2014 ءسے بھارت کی حکومت کی سائنس پر مبنی ترقی پر مسلسل توجہ کو اجاگر کیا جا سکے۔پریس کانفرنس میں سائنس کے شعبے سے متعلق سینئر رہنما بھی موجود تھے، جن میں پروفیسر اے کے سود، حکومت ہند کے پرنسپل سائنٹفک ایڈوائزر؛ پروفیسر ابھے کرن دیکار، سکریٹری، محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی؛ ڈاکٹر راجیش ایس گوکھلے، سکریٹری، محکمہ بایوٹیکنالوجی؛ ڈاکٹر این کلے سیلوی، ڈائریکٹر جنرل، سی ایس آئی آر ؛ اور ایم روی چندرن، سیکریٹری، وزارت ارضیات بھی شامل تھے۔اصلاحات کے سفر کی وضاحت کرتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ آج حکومت کی ہر بڑی اصلاح، تمام محکموں اور وزارتوں میں ٹیکنالوجی کی مدد سے ممکن ہوئی ہے۔ انہوں نے اجاگر کیا کہ یہ تبدیلی قومی پالیسی سازی میں سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت کو مسلسل ترجیح دینے کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے۔ وزیر موصوف نے 2014 ئ کے بعد سے وزیر اعظم کے مسلسل یومِ آزادی کے خطابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر خطاب میں سائنس سے متعلق اہم موضوع شامل رہا ہے ، جس سے حکومت کے طویل مدتی ارادے اور عالمی سطح کے ویڑن کی عکاسی ہوتی ہے۔وزیر موصوف نے اہم قومی مشنوں جیسے ڈیپ اوشن مشن ( گہرے سمندر سے متعلق مشن ) اور گگن یان پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بھارت بیک وقت خلائ میں انسان کی پرواز اور سمندر کی گہرائی میں تحقیق کی تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2027 ءمیں جس وقت ایک بھارتی خلائ باز ، خلا کی وسعتوں میں پرواز کرے گا، اسی وقت بھارت انسان بردار آبدوز بھی 6000 میٹر تک کی گہرائی میں سمندر میں اتارے گا ، جو ایک تاریخی اور غیر معمولی دوہری کامیابی کی نمائندگی کرے گا۔
وزیرِ موصوف نے سال کی ایک بڑی اہم پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ریسرچ ڈیولپمنٹ اینڈ انوویشن ( آر ڈی آئی ) فنڈ، جس کی مالیت ایک لاکھ کروڑ روپے ہے، اس کے ذریعے حکومت نجی شعبے کی تحقیق و ترقی کی براہِ راست حمایت کر رہی ہے، جو عالمی سطح پر ایک بے مثال اقدام ہے۔ اس کے ساتھ ہی انوسندھان نیشنل ریسرچ فاو¿نڈیشن ( اے این آر ایف ) قائم کی گئی ہے تاکہ تحقیقی فنڈنگ کو جمہوری بنایا جا سکے، شرکت کو صرف اعلیٰ اداروں تک محدود نہ رکھا جائے اور اس کے وسائل کا تقریباً 50 تا 60 فیصد حصہ غیر سرکاری ذرائع، جیسے فلاحی اداروں اور صنعت، سے حاصل کیا جا سکے۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے دیگر اقدامات جیسے نیشنل کوانٹم مشن، ندھی ، پرس / پریرنا اور ویبھو پروگراموں کو بھی اجاگر کیا، جن کا مقصد اسٹارٹ اپس، تحقیق کے بنیادی ڈھانچے اور عالمی سائنسی تعاون کو مضبوط بنانا اور بھارتی سائنسی برادری کے ساتھ منظم رابطہ قائم کرنا ہے۔
سی ایس آئی آر کی خدمات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ، وزیر موصوف نے عالمی سطح پر متعلقہ اختراعات کا ذکر کیا، جن میں اسٹیل سلیگ پر مبنی دیرپا سڑکیں، مقامی پیراسیٹامول کی پروڈکشن ، بھارت کا مقامی طور پر تیار کردہ پہلا اینٹی بایوٹک نفیتھرومائسن، پائیدار کھانے کی اختراعات جیسے باجرہ پر مبنی مصنوعات اور ایچ اے این ایس اے – این جی ( ہنسا – این جی ) دو نشستوں والا تربیتی ہوائی جہاز ، جو پی پی پی ماڈل کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے ، ان کوششوں کو “غیر ملکی مارکیٹس میں سودیشی اختراعات کی قبولیت” کے طور پر بیان کیا۔ طلباءمیں سائنسی رجحان پیدا کرنے کے لیے ‘ون ڈے ایز اے سائنٹسٹ’ ( ایک دن سائنسداں کی حیثیت سے ) جیسی عوامی بیداری پہل کو بھی نمایاں کیا گیا۔وزیر موصوف نے کہا کہ ارضیاتی سائنس کے شعبے میں، بھارت نے موسم کی پیش گوئی میں نمایاں ترقی کی ہے، جس میں آئی ایم ڈی کی ناو¿کاسٹنگ صلاحیت کے ذریعے تین گھنٹے کی درست پیش گوئی ممکن ہوئی ہے۔ انہوں نے لکشدیپ میں نمکین پانی سے تازہ پانی پیدا کرنے والے پلانٹ کو عالمی معیار کی مثال قرار دیا اور سمندری توانائی، بحری مشاہداتی نظام اور ماحولیاتی لچک میں بھی پیش رفت کو اجاگر کیا۔تقریب کے اختتام پر، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت اعلیٰ درجے کی ٹیکنالوجیز، ویکسینز اور طبی آلات کا درآمد کنندہ سے برآمد کنندہ بن گیا ہے اور بھارت کی بایو اکنومی اب ایک اہم ترقیاتی محرک کے طور پر ابھری ہے۔ انہوں نے کہا کہ “بہترین آنا ابھی باقی ہے” اور سائنسی اصلاحات ، بھارت کو 2047 ءسے پہلے ہی عالمی معیشت کو بلندی پر لے جانے میں تیزی لائیں گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan