
برسلز،19 جنوری(ہ س)۔یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے اعلان کیا ہے کہ یورپی یونین کے رہنما آنے والے دنوں میں ایک اجلاس منعقد کریں گے تاکہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کے معاملے پر کسٹم ڈیوٹیز عائد کرنے کی دھمکی کے بعد مشترکہ ردِ عمل کو ہم آہنگ کیا جا سکے۔کوسٹا نے اتوار کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لکھا “موجودہ پیش رفت کی اہمیت کے پیش نظر اور بہتر ہم آہنگی کے لیے، میں نے آنے والے دنوں میں یورپی کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔”کوسٹا نے جو یورپی یونین کی سربراہی کانفرنسوں کی صدارت کرتے ہیں، مزید کہا کہ رکن ممالک کے ساتھ ان کی مشاورت سے ڈنمارک اور گرین لینڈ کی حمایت کے حوالے سے مضبوط عزم سامنے آیا ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی قسم کے دباو یا جبر کا مقابلہ کرنے کی تیاری ظاہر ہوئی ہے، جبکہ امریکہ کے ساتھ تعمیری روابط برقرار رکھنے پر بھی اتفاق پایا گیا ہے۔ایک یورپی عہدے دار کے مطابق کوسٹا جمعرات کو برسلز میں سربراہی اجلاس بلانے پر غور کر رہے ہیں۔ادھر برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے اتوار کے روز اپنی رپورٹ میں بتایا کہ یورپی دارالحکومت امریکہ پر 93 ارب یورو (107.71 ارب ڈالر) مالیت کی کسٹم ڈیوٹیز عائد کر سکتے ہیں یا یورپی یونین کی منڈیوں تک امریکی کمپنیوں کی رسائی محدود کر سکتے ہیں۔ یہ ممکنہ اقدامات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ان دھمکیوں کے جواب میں ہو سکتے ہیں جو انہوں نے نیٹو کے ان اتحادیوں کے خلاف دیں جو گرین لینڈ کو ضم کرنے کی ان کی مہم کی مخالفت کر رہے ہیں۔اسی تناظر میں برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹامر نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بتایا کہ اجتماعی سلامتی کے حصول کی کوشش کرنے والے نیٹو رکن ممالک پر کسٹم ڈیوٹیز عائد کرنا “غلط” ہے۔اس حوالے سے جاری بیان کے مطابق، اسٹارمر نے اتوار کے روز متعدد رہنماو¿ں سے ٹیلی فونک رابطے کیے، جن میں یورپی کمیشن کی صدر اورسولا فان دیر لائن، ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن اور نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے شامل تھے۔ یہ بات بلومبرگ نیوز ایجنسی نے بتائی۔بیان میں کہا گیا کہ ان رابطوں کے بعد اسٹامر نے صدر ٹرمپ سے بھی بات کی اور گرین لینڈ کے حوالے سے اپنے موقف کا ایک بار پھر اعادہ کیا۔برطانوی وزیر اعظم اس سے قبل بھی صدر ٹرمپ کے اس منصوبے کو “بالکل غلط” قرار دے چکے ہیں جس کے تحت گرین لینڈ کی خریداری کے معاہدے تک پہنچنے تک برطانیہ پر کسٹم ڈیوٹیز عائد کرنے کی بات کی گئی تھی۔ انھوں نے کہا تھا کہ وہ اس معاملے کو براہ راست امریکی انتظامیہ کے ساتھ اٹھائیں گے۔صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ یکم فروری سے برطانیہ سے امریکہ بھیجی جانے والی تمام اشیا پر 10 فیصد کسٹم ڈیوٹیز عائد کی جائیں گی، جو یکم جون سے بڑھا کر 25 فیصد کر دی جائیں گی، جب تک واشنگٹن کو ڈنمارک سے گرین لینڈ خریدنے کے لیے کوئی معاہدہ طے نہیں ہو جاتا۔امریکی صدر نے کہا کہ یہی اقدام ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز اور فن لینڈ پر بھی لاگو ہوگا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان ممالک نے “نامعلوم مقاصد” کے لیے گرین لینڈ کا سفر کیا ہے۔دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ “گرین لینڈ کے بارے میں ہمارا موقف بالکل واضح ہے۔ یہ مملکتِ ڈنمارک کا حصہ ہے اور اس کا مستقبل گرین لینڈ کے عوام اور ڈنمارک کے شہریوں سے متعلق ہے۔”
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan