


بہار کے مدھے پورہ میں خوفناک سڑک حادثہ، 4 لوگوں کی موتمدھے پورہ، 17 جنوری (ہ س)۔ بہار کے مدھے پورہ میں ہفتہ کی صبح تقریباً 4 بجے ایک خوفناک سڑک حادثہ پیش آیا، جس میں چار نوجوانوں کی موقع پر ہی موت ہوگئی۔ حادثہ قومی شاہراہ 106 پر بی این منڈل یونیورسٹی اور پاور گرڈ کے درمیان اس وقت پیش آیا جب تیز رفتار ہائیوا اور ایک کار کے درمیان آمنے سامنے کی ٹکر ہوگئی۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ کار مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور اس کا بڑا حصہ ہائیوا کے اندر گھس گیا۔عینی شاہدین اور پولیس کے مطابق ٹکر کے بعد کار، ہائیوا کے نیچے دب گئی اور اس میں سوار چاروں نوجوان بری طرح پھنس گئے۔ حادثے کی تصاویر انتہائی پریشان کن ہیں۔ تین نوجوانوں کے سر کچل گئے، جبکہ ایک کی آنکھ پھوٹ گئی۔ کار کے اندر خون ہی خون پھیلا ہوا تھا۔ ڈرائیور سیٹ پر بیٹھے نوجوان کا سر باہر لٹکا ہوا تھا جب کہ بغل میں بیٹھا شخص اچھل کر ڈرائیور سیٹ پر آگیا۔ پچھلی سیٹ پر بیٹھے دو نوجوانوں میں سے ایک کے سر پر شدید چوٹیں آئیں۔صبح واقعہ کی اطلاع ملنے پر مقامی لوگوں نے فوری طور پر صدر تھانہ پولیس اور ایمبولینس کو اطلاع دی۔ صدر پولیس نے موقع پر پہنچ کر لوگوں کی مدد سے کار میں پھنسی لاشوں کو باہر نکالا۔ چاروں کو تشویشناک حالت میں صدر اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔ پولیس نے لاشوں کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے صدر اسپتال بھیج دیا۔مرنے والوں میں سے دو کی شناخت ہو گئی ہے۔ دونوں مدھے پورہ ضلع کے رہنے والے تھے۔ شناخت شدہ نوجوانوں میںمدھے پورہ میونسل کونسل علاقہ کے وارڈ نمبر 20، گلزار باغ رہائشی اشوک ساہ کے بیٹے سونو کمار اور مسجد چوک وارڈ نمبر 13 رہائشی سبودھ ساہ کے بیٹے ساحل راج شامل ہیں۔ باقی دو مرنے والوں کی شناخت ابھی تک نہیں ہوسکی ہے اور پولیس تفتیش کررہی ہے۔حادثے کے بعد ٹرک ڈرائیور موقع سے فرار ہو گیا، پولیس اس کی تلاش کر رہی ہے۔ صدر پولیس نے ٹرک اور تباہ شدہ کار دونوں کو قبضے میں لے لیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ تیز رفتار اور لاپرواہی ڈرائیونگ حادثے کی بڑی وجہ تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تفتیش کی جارہی ہے اور فرار ڈرائیور کو جلد گرفتار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔مدھے پورہ سمیت بہار کے کئی اضلاع میں قومی شاہراہوں پر تیز رفتاری اور لاپرواہی اکثر جان لیوا حادثات کی وجہ بنتی ہے۔ اس حادثے نے ایک بار پھر روڈ سیفٹی کو لے کر سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔ مقامی رہائشی اور سماجی تنظیمیں مستقبل میں اس طرح کے سانحات کو روکنے کے لیے ٹریفک قوانین کو مزید سخت کرنے، رفتار پر قابو پانے اور بہتر سائن بورڈ لگانے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan