
حیدرآباد، 15 جنوری (ہ س)۔ تلنگانہ اسمبلی کے اسپیکر گڈم پرساد نے پارٹی چھوڑنے کے الزامات کے تحت چیوڑلہ کے ایم ایل اے کالے یادیا اور بانسواڑہ کے ایم ایل اے پوچارم سرینواس ریڈی کے خلاف دائرنااہلی کی درخواستوں کو مسترد کر دیاہے۔ اسپیکر نے اپنے فیصلے میں واضح کیاکہ دونوں ارکانِ اسمبلی بدستور بی آر ایس پارٹی کا حصہ ہیں اور ان کے پارٹی تبدیل کرنے کے کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے جا سکے۔اسپیکر کے مطابق، تکنیکی بنیادوں پر اور مضبوط ثبوتوں کی عدم موجودگی میں نااہلی کی کارروائی ممکن نہیں، اسی لیے ان درخواستوں کو قابلِ سماعت نہیں ماناگیا۔ اس سلسلے میں اسپیکر ٹریبونل میں مکمل سماعت کے بعد جمعرات کو دوپہر 2:30 بجے فیصلہ سنایا گیا۔واضح رہے کہ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں کالے یادیااور پوچارم سرینواس ریڈی نے بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی۔ بعد ازاں ان کے بارے میں یہ الزامات سامنے آئے کہ وہ کانگریس کے قریب ہو گئے ہیں۔ ان الزامات کی بنیاد پر بی آر ایس کے ایم ایل ایز جگدیش ریڈی اور چنتا پرابھاکر نے اسپیکر کے سامنے باضابطہ شکایت درج کرائی تھی۔یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اسپیکر نے اس نوعیت کی نااہلی درخواستوں کو مستردکیاہو۔ اس سے قبل بھی پانچ ایم ایل ایز کے خلاف دائر پٹیشنز خارج کی جا چکی ہیں۔ دراصل حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد بی آر ایس سے منتخب ہونے والے دس ایم ایل ایز کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ عملی طور پر انڈین نیشنل کانگریس کے قریب دکھائی دے رہے ہیں، جس کے باعث بی آر ایس پارٹی مسلسل نااہلی کی کارروائی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ تاہم اسپیکر گڈم پرساد کا مؤقف ہے کہ صرف سیاسی قیاس آرائیوں یا بیانات کی بنیاد پر کسی رکنِ اسمبلی کو نااہل قرار نہیں دیاجاسکتا، جب تک کہ واضح اور ٹھوس شواہد پیش نہ کیے جائیں۔ اسی موقف کے تحت بی آر ایس کی جانب سے داخل کی گئی درخواستیں مسترد کی جا رہی ہیں۔ اس فیصلے کے بعد تلنگانہ کی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل پیدا ہوگئی ہے اورسیاسی حلقوں میں اس معاملے پرزبردست بحث جاری ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں اس فیصلے کے سیاسی اثرات پربھی گہری نظررکھی جارہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق