پرانا پل واقعہ: راجہ سنگھ کے اشتعال انگیز بیان پرسیاسی و سماجی حلقوں میں تشویش
حیدرآباد، 15 ۔ جنوری (ہ س)۔ حیدرآباد کے پرانے شہر کے علاقہ پرانا پل میں مندر کو نقصان پہنچائے جانے کے واقعہ کے ایک دن بعد گوشہ محل کے ایم ایل اے ٹی راجہ سنگھ کے بیان نے ایک بار پھر سیاسی اور سماجی حلقوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ ان کے سخت اور اشتعال
پرانا پل واقعہ: راجہ سنگھ کے اشتعال انگیز بیان پرسیاسی و سماجی حلقوں میں تشویش


حیدرآباد، 15 ۔ جنوری (ہ س)۔ حیدرآباد کے پرانے شہر کے علاقہ پرانا پل میں مندر کو نقصان پہنچائے جانے کے واقعہ کے ایک دن بعد گوشہ محل کے ایم ایل اے ٹی راجہ سنگھ کے بیان نے ایک بار پھر سیاسی اور سماجی حلقوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ ان کے سخت اور اشتعال انگیز ریمارکس پر شہر میں امن و امان کے حوالے سے سنجیدہ خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔پرانا پل کے دورے کے بعد جاری کردہ ایک ویڈیو پیغام میں ایم ایل اے راجہ سنگھ نے کہا کہ مندر میں توڑ پھوڑ کے ہر واقعہ کا جواب توڑ پھوڑ سے ہی دیاجائے گا۔ راجہ سنگھ نے دعویٰ کیا کہ ہندو سماج بیدار ہو چکاہے اور ایسے واقعات کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

راجہ سنگھ نے الزام عائد کیاکہ پرانا پل میں ایک مسلمان نوجوان نے مندر کو نقصان پہنچایا، جس کے ردعمل میں ہندوؤں کی جانب سے درگاہ اور مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر تعمیر شدہ چِلّہ کو نقصان پہنچایاگیا۔ راجہ سنگھ کا کہنا تھا کہ اب ہندوؤں نے بھی جواب دینا سیکھ لیا ہے۔ایم ایل اے نے پولیس کے رویے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہاکہ اکثر ایسے واقعات میں مندر کو نقصان پہنچانے والے شخص کو ذہنی مریض قرار دے کر معاملہ ٹال دیا جاتا ہے۔ راجہ سنگھ کے اس بیان پر بھی مختلف حلقوں میں اعتراض سامنے آ رہاہے، کیونکہ ناقدین کے مطابق ایسے الفاظ مزید اشتعال کا سبب بن سکتے ہیں۔راجہ سنگھ کے بیان کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آرہا ہے۔ عوامی نمائندوں اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات خاص طور پرایسے وقت میں خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں جب پرانا شہر پہلے ہی کشیدہ حالات سے گزر رہا ہے۔شہریوں کا مطالبہ ہے کہ اشتعال انگیز تقاریر اورنفرت انگیز بیانات کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ شہر کے امن و امان کو برقرار رکھاجاسکے اور حیدرآباد کی گنگاجمنی تہذیب محفوظ رہے۔قابلِ ذکر ہے کہ کل کی رات پرانا پل میں دو گروپوں کے درمیان جھڑپ، پتھراؤ، گاڑیوں کو نقصان، مذہبی جھنڈوں کی بے حرمتی، درگاہ کے قریب قبروں کو نقصان اور پولیس پر حملے کے واقعات پیش آئے تھے۔ ان واقعات کے بعد پورا علاقہ خوف و ہراس کی لپیٹ میں آگیا تھا اورپرانا شہر ایک بار پھر کشیدگی کی فضا میں ڈوب گیا تھا۔شہر کے مختلف حلقوں سے یہ آواز بلند ہو رہی ہے کہ سیاست کو نفرت کے بجائے خدمت سے پہچانا جانا چاہیے۔ عوام کا کہنا ہے کہ حیدرآباد کی شناخت صدیوں پرانی گنگا جمنی تہذیب ہے، نہ کہ اشتعال، نفرت اور تشدد۔ شہری امن چاہتے ہیں، سیاسی ڈرامہ نہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande