لداخ قومی شاہراہ پر بیکن کی انتھک کوششوں کی وجہ ٹریفک رواں دواں
سرینگر 15 جنوری(ہ س )۔سرینگر لداخ قومی شاہراہ کو اگرچہ ہر سال نومبر کے شروع میں ٹریفک کی آمدورفت کےلۓ اپریل تک بند کردیا جاتا تھا۔تاہم پچھلے تقریبا تین سال سے لگاتار اس شاہراہ کو بیکن کی طرف سے کھلا رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ چِلّا
لداخ قومی شاہراہ پر بیکن کی انتھک کوششوں کی وجہ ٹریفک رواں دواں


سرینگر 15 جنوری(ہ س )۔سرینگر لداخ قومی شاہراہ کو اگرچہ ہر سال نومبر کے شروع میں ٹریفک کی آمدورفت کےلۓ اپریل تک بند کردیا جاتا تھا۔تاہم پچھلے تقریبا تین سال سے لگاتار اس شاہراہ کو بیکن کی طرف سے کھلا رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ

چِلّا کلاں کے سخت حالات اور زوجیلا درے پر منفی 18 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت کےباوجود، بیکن کی 122 آر سی سی گاڑیوں کی ہموار نقل و حرکت اور لداخ اور جموں و کشمیر کے درمیان اہم رابطہ برقرار رکھنے کے لیے زوجیلا درے پر اپنی انتھک کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، جب تک کہ سڑک بند کرنے کا حکومتی حکم نہ ہو۔

غور طلب ہے کہ اس شاہراہ پر آج بھی چھوٹی بڑی گاڑیاں دراس میں منفی 24 ڈگری سیلسیس اور زوجیلا درے پر منفی 18 ڈگری سیلسیس کے ہوتے ہوئے بھی رواں دواں ہیں۔ جو کہ ہر اس ڈرائیور کےلۓ باعث فخر کی بات ہے جو اس شاہراہ پر گاڑیاں چلاتے ہیں۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Aftab Ahmad Mir


 rajesh pande