
جموں, 15 جنوری (ہ س)۔
مرکزی داخلہ سکریٹری گووند موہن نے جمعرات کو جموں میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے ملاقات کی، جس دوران جموں و کشمیر کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، جاری انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں اور سکیورٹی نظام کی عملی تیاریوں کا جامع جائزہ لیا گیا۔دو روزہ دورے پر آئے مرکزی داخلہ سکریٹری نے اسی روز ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت بھی کی، جس میں جموں کے پہاڑی علاقوں میں سخت کیے گئے سکیورٹی انتظامات، سرحدی علاقوں کی صورتحال، جاری انسدادِ دہشت گردی آپریشنز اور ڈرون دراندازی کے واقعات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق، گووند موہن نے صبح کے وقت لوک بھون میں لیفٹیننٹ گورنر سے ملاقات کی، جہاں سلامتی، آپریشنز اور ترقیاتی امور سمیت مختلف اہم نکات پر تبادلۂ خیال ہوا۔ اجلاس میں کشمیر اور جموں کے دونوں خطوں کی موجودہ سکیورٹی صورتحال، وادی کشمیر اور جموں کے پہاڑی علاقوں میں جاری انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں، اور مشترکہ سکیورٹی فورسز کی تیاریوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران پولیس، فوج، نیم فوجی دستوں اور خفیہ ایجنسیوں کے درمیان باہمی تال میل کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا، جبکہ حالیہ سرگرمیوں کے پیش نظر جموں کے پہاڑی علاقوں میں اضافی سکیورٹی اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
مرکزی داخلہ سکریٹری نے کنونشن سینٹر جموں میں مسلسل دوسرے روز بھی اعلیٰ سطحی اجلاسوں کی صدارت کی، جن میں مختلف سکیورٹی فورسز، پولیس اور خفیہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں سرحدی سکیورٹی مینجمنٹ، پہاڑی علاقوں میں سکیورٹی کو مزید مستحکم بنانے، بین الاداراتی تعاون اور سرحدوں پر جاری انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں و ڈرون سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔یہ اعلیٰ سطحی مشاورت مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی 8 جنوری کو دی گئی ہدایات کے پس منظر میں ہوئی، جن میں انہوں نے سکیورٹی فورسز کو دہشت گردوں کے نیٹ ورک اور ان کی مالی معاونت کے خلاف مشن موڈ میں کارروائیاں جاری رکھنے کی ہدایت دی تھی۔
واضح رہے کہ گووند موہن بدھ کی دوپہر مرکزی افسران کی ٹیم کے ہمراہ جموں پہنچے تھے اور آمد کے فوراً بعد کنونشن سینٹر میں اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر تپن ڈیکا، بی ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل پروین کمار، سی آر پی ایف کے سربراہ جی پی سنگھ، جموں و کشمیر کے ڈی جی پی نلین پربھات کے علاوہ فوج، پولیس، سول انتظامیہ اور خفیہ اداروں کے سینئر افسران شریک ہوئے۔ذرائع کے مطابق، جموں کے بلند پہاڑی اور جنگلاتی علاقوں میں بڑے پیمانے پر انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں جاری ہیں، جہاں اطلاعات کے مطابق تقریباً تین درجن دہشت گرد گزشتہ دو برس سے زائد عرصے کے دوران دراندازی کے بعد چھپے ہونے کا شبہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی بین الاقوامی سرحد اور لائن آف کنٹرول پر ڈرون سرگرمیوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ خفیہ رپورٹس میں گھنی دھند کی آڑ میں دراندازی کی کوششوں کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر