
ممبئی، 15 جنوری (ہ س) نوی ممبئی میں بلدیاتی انتخابات کے دوران جمعرات کی صبح پولنگ کے آغاز کے ساتھ ہی ایک غیر معمولی صورتحال سامنے آئی، جب مہاراشٹر کے جنگلات کے وزیر گنیش نائک اور ان کے خاندان کو ووٹر لسٹ میں نام نہ ملنے کے باعث تقریباً ایک گھنٹہ انتظار کرنا پڑا۔ ووٹنگ صبح 7.30 بجے شروع ہوتے ہی یہ مسئلہ سامنے آیا۔
ابتدا میں نائک خاندان اپنے متعین پولنگ مرکز پہنچا، مگر وہاں نام شامل نہ ہونے پر انہیں دوسرے پولنگ اسٹیشن کا رخ کرنا پڑا۔ تاہم دوسری جگہ بھی ووٹر لسٹ میں نام نہ ملنے سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی اور اہلِ خانہ کو مختلف مراکز کے درمیان جانا پڑا۔
بعد ازاں انتخابی حکام نے گنیش نائک، سنجیو نائک اور کلپنا نائک کے نام کوپر کھیرنے کے سینٹ میری ہائی اسکول میں قائم پولنگ سینٹر پر تلاش کیے، جہاں تینوں نے آخرکار اپنے ووٹ ڈالے۔
اسی دوران یہ بھی سامنے آیا کہ سابق میئر ساگر نائک، جو گنیش نائک کے بھتیجے ہیں، اور ان کی اہلیہ کے نام ایک دوسرے پولنگ سینٹر میں درج ہیں۔ اس وجہ سے نائک خاندان کے افراد، جو عام طور پر ایک ہی مقام پر ووٹنگ کرتے رہے ہیں، اس بار الگ الگ پولنگ مراکز پر ووٹ ڈالنے پر مجبور ہوئے۔
اس واقعے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے گنیش نائک نے انتخابی انتظامات میں خامیوں کا الزام عائد کیا اور کہا کہ نظام مطلوبہ درستگی اور رفتار کے ساتھ کام نہیں کر رہا۔ ان کے مطابق ایسی کوتاہیاں عام ووٹروں کے لیے بھی پریشانی کا باعث بنتی ہیں۔ انتخابی حکام کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ وضاحت جاری نہیں کی گئی، جبکہ نوی ممبئی میں سخت سیکورٹی کے درمیان ووٹنگ کا عمل جاری رہا۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے