پولنگ بوتھ پر الگ ضابطہ، ووٹر پریشان موبائل فون پالیسی میں تضاد، ووٹنگ میں تاخیر ,ہر پولنگ بوتھ پر الگ ضابطہ، ووٹر پریشان
ممبئی، 15 جنوری (ہ س) ممبئی میں بریہن ممبئی میونسپل کارپوریشن انتخابات کے دوران ووٹنگ کے پہلے ہی دن موبائل فون کے استعمال سے متعلق غیر واضح قواعد ووٹروں کے لیے پریشانی کا سبب بن گئے۔ صبح 7.30 بجے پولنگ شروع ہوتے ہی مختلف پولنگ بوتھس پر موبائل فو
پولنگ بوتھ پر الگ ضابطہ، ووٹر پریشان موبائل فون پالیسی میں تضاد، ووٹنگ میں تاخیر ,ہر پولنگ بوتھ پر الگ ضابطہ، ووٹر پریشان


ممبئی، 15 جنوری (ہ س) ممبئی میں بریہن ممبئی میونسپل کارپوریشن انتخابات کے دوران ووٹنگ کے پہلے ہی دن موبائل فون کے استعمال سے متعلق غیر واضح قواعد ووٹروں کے لیے پریشانی کا سبب بن گئے۔ صبح 7.30 بجے پولنگ شروع ہوتے ہی مختلف پولنگ بوتھس پر موبائل فون کے حوالے سے الگ الگ طریقے اپنائے گئے، جس سے ووٹنگ کے عمل میں سستی آئی۔

ووٹروں کے مطابق بعض پولنگ اسٹیشنوں پر انتخابی عملہ اور پولیس اہلکار موبائل فون مکمل طور پر اندر لے جانے سے روک رہے تھے، جبکہ دیگر مقامات پر فون کو بند حالت میں ووٹنگ روم تک لے جانے کی اجازت دی گئی۔ اس تضاد نے خاص طور پر صبح کے وقت ووٹ ڈالنے والوں کو الجھن میں ڈال دیا۔

کئی ووٹروں نے نشاندہی کی کہ موبائل فون ان کے لیے اس لیے ضروری تھے کہ ای ووٹنگ سلپس انہیں ڈیجیٹل طور پر موصول ہوئی تھیں، جن میں ووٹر سیریل نمبر اور پولنگ روم کی معلومات شامل تھیں۔ ایک ووٹر نے بتایا کہ اس نے موبائل پر موجود ای سلپ کے ذریعے ووٹ ڈال دیا اور فون کو پولنگ روم میں فراہم کردہ محفوظ پلاسٹک پاؤچ میں رکھ دیا، جس کے لیے کاغذی سلپ کی ضرورت نہیں پڑی۔

اگرچہ سِوک الیکشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے پہلے ہی یہ وضاحت دی جا چکی تھی کہ موبائل فون پولنگ بوتھ میں لانے کی اجازت ہے، مگر شرط یہ ہے کہ ووٹنگ کے دوران فون بند رکھا جائے، تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ اس ہدایت پر تمام مقامات پر یکساں عمل نہیں ہوا۔ کئی ووٹروں کو پولنگ اسٹیشن کے باہر ہی روک دیا گیا، جس سے مایوسی پھیلی۔

اس مسئلے پر سوشل میڈیا اور رہائشی میسجنگ گروپس میں بھی سخت ردعمل سامنے آیا۔ ووٹروں نے خبردار کیا کہ اس طرح کی الجھن ووٹر ٹرن آؤٹ کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ دفاتر جانے والے افراد نے بتایا کہ وہ صبح سویرے ووٹ ڈالنے آتے ہیں اور موبائل فون ساتھ رکھنا ان کی مجبوری ہے، جبکہ اکیلے آنے والے ووٹر فون رکھنے کے لیے محفوظ جگہ نہ ہونے کی شکایت کرتے رہے۔

مانخورد سمیت دیگر علاقوں کے رہائشیوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ موبائل فون پر پابندی کے باعث کئی ووٹر ووٹ ڈالے بغیر واپس جا سکتے ہیں۔ بعد میں سِوک حکام نے ایک بار پھر واضح کیا کہ موبائل فون پولنگ مراکز میں اجازت کے ساتھ لائے جا سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ بند ہوں، اور تمام بوتھس پر اس اصول کے یکساں نفاذ پر زور دیا گیا تاکہ ووٹنگ کے عمل میں مزید رکاوٹ نہ آئے۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande