ڈاکٹرمحمد عمر خان ثمر کی علمی ادبی و صحافتی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا
علی گڑھ، 15 جنوری (ہ س)نامور تعلیمی و علمی شخصیت ڈاکٹر محمد عمر خان ثمر کی 22ویں برسی کے موقع پر آج ثمر میموریل پبلک اسکول میں ایک باوقار یادگاری جلسے کا انعقاد کیا گیا۔ جلسے کی صدارت معروف صحافی محمد احمد شیون نے کی، جبکہ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے
ڈاکٹر محمد عمر خاں ثمر چھتاروی کی یاد میں جلسہ


علی گڑھ، 15 جنوری (ہ س)نامور تعلیمی و علمی شخصیت ڈاکٹر محمد عمر خان ثمر کی 22ویں برسی کے موقع پر آج ثمر میموریل پبلک اسکول میں ایک باوقار یادگاری جلسے کا انعقاد کیا گیا۔ جلسے کی صدارت معروف صحافی محمد احمد شیون نے کی، جبکہ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے حاجی سید مقصود حسین تاج، مہمانِ ذی وقار کی حیثیت سے ماہرِ تعلیم ڈاکٹر سید جاوید اختر اور سماجی کارکن سابق مونسپل کونسلر سید مظفر سعید نے شرکت کی۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی حاجی سید مقصودحسین تاج نے کہا کہ ڈاکٹر عمر خان ثمر چھتاروی نے تعلیم کو محض پیشہ نہیں بلکہ مشن سمجھ کر اپنایا۔انہوں نے مسلمانوں میں تعلیمی بیداری کے لیے جو خدمات انجام دیں وہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے افراد صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں جو قوم کو فکری سمت عطا کرتے ہیں۔مہمانِ ذی وقار ڈاکٹر سید جاوید اختر نے اپنے والد احمد حسین مرحوم کے ساتھ انکے تعلقات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عمر خان ثمر نے علی گڑھ کی تعلیمی فضا کو مضبوط بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔انہوں نے اردو زبان، دینی و عصری تعلیم کے امتزاج پر زور دیا اور تعلیمی اداروں کو قوم کی ترقی کی بنیاد قرار دیا۔ ڈاکٹر جاوید اختر نے ثمر میموریل پبلک اسکول کو مرحوم کے خوابوں کی عملی تعبیر قرار دیا۔سماجی کارکن سید مظفر سعید نے کہا کہ ڈاکٹر عمر خان ثمر ایک مصلح اور سماجی رہنما تھے۔انہوں نے تعلیمی میدان کے ساتھ ساتھ سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے لیے بھی قابلِ قدر خدمات انجام دیں۔صدرِ جلسہ محمد احمد شیون نے صدارتی خطاب میں مرحوم کی صحافتی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اخبار ”جمہور“ نے علی گڑھ کی صحافت کو ایک نئی پہچان دی۔ڈاکٹر عمر خان ثمر نے صحافت کو عوام کی آواز بنایا اور سچائی و بے باکی کے ساتھ مسائل کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم کے ساتھ مجھے علی گڑھ میں پانچ اداروں میں کام کرنے کا شرف حاصل ہوا جہاں میں نے یہ پایا کہ وہ ہمیشہ قوم و ملت کی فلاح بہبودی کے لیے فکر مند رہتے تھے وہ آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس، جمعیۃ علما ہند،انجمن ترقی اردو، مجلس انتظامیہ جامع مسجدکے سرگرم رکن رہے انھوں نے ادارہ علم و ادب اور اردو بورڈ کا قیام کیا جس کی وہ آخر وقت تک خدمت انجام دیتے رہے۔مقررین نے اس موقع پر ڈاکٹر عمر خان ثمر کے صاحبزادے حاجی اے سمیع خان کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے والد کے تعلیمی مشن کو نہایت اخلاص کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں۔ اور اپنے فرزندوں عادل اختر، ذیشان سمیع اور انتخاب سمیع میں بھی وہی جذبہ پیدا کیا ہے یہی وجہ ہے کہ آج ڈاکٹر عمر خان ثمر کے پسرزادے نہایت ہی انہماک کے ساتھ تعلیمی مشن کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر عمر خان ثمر چھتاروی کی 22ویں برسی کے موقع پر ادبی سماجی اور صحافی خدمات کے لیے ”ثمر ایوارڈ“ بلترتیب حاجی سید مقصود حسین تاج، ڈاکٹر سید جاوید اختر اور صحافی محمد کامران کو پیش کیے گئے۔ ایوارڈ حاصل کرنے والوں نے اس اعزاز کو مرحوم ڈاکٹرمحمد عمر خان ثمر کی فکر اور تعلیمی جدوجہد سے وابستہ قرار دیا۔جلسے کی نظامت معروف صحافی حاجی اے سمیع خان نے انجام دی۔ انہوں نے اپنے والد کی حیات و خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان کی پوری زندگی تعلیم، صحافت اور قوم کی خدمت کے لیے وقف رہی۔اس موقع پر اسکول کے مینیجر عادل اختر، پرنسپل انتخاب سمیع، ذیشان سمیع، پروکٹر اور صحافی ضیاء الرحمن نے تمام مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا۔تقریب کے دوران مختلف تعلیمی و ثقافتی سرگرمیوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ و طالبات کوسرٹیفکٹ میڈل اور انعامات سے نوازا گیا۔مشہور شاعر نسیم نوری نے اپنا کلام پیش کیا جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔یادگاری جلسے میں ثمر پبلک اسکول کے جملہ اسٹاف کے ساتھ طلبا وطالبات اور دیگر شخصیات نے بڑی تعدادمیں شرکت کی۔۔۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande