ڈاکٹر منظور عالم کی وفات پر شعبہ سنی دینیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تعزیتی جلسہ منعقد
علی گڑھ، 15 جنوری (ہ س)۔ شعبہ سنّی دینیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے زیر اہتمام ڈاکٹر منظور عالم، چیئر مین، آئی او ایس، نئی دہلی کی وفات پر ایک تعزیتی نشست منعقد کی گئی جس میں فیکلٹی آف تھیالوجی اور دیگر شعبہ جات کے اساتذہ، ریسرچ اسکالرز اور طلبہ ن
ڈاکٹر منظور عالم کا تعزیتی جلسہ


علی گڑھ، 15 جنوری (ہ س)۔ شعبہ سنّی دینیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے زیر اہتمام ڈاکٹر منظور عالم، چیئر مین، آئی او ایس، نئی دہلی کی وفات پر ایک تعزیتی نشست منعقد کی گئی جس میں فیکلٹی آف تھیالوجی اور دیگر شعبہ جات کے اساتذہ، ریسرچ اسکالرز اور طلبہ نے شرکت کی۔

صدر شعبہ سنی دینیات پروفیسر محمد سعود عالم قاسمی نے اپنے خطاب میں ڈاکٹر منظور عالم علیگ کی دینی، سماجی، اصلاحی و تحقیقی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ آزادی سے قبل مدھوبنی میں پیدا ہوئے۔مسلم یونیورسٹی علیگڑھ میں معاشیات سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ وہ صالح فکر اور عملی جد و جہد سے معمور تھے۔انہو ں نے سعودی عرب کی وزارت مالیات میں بھی کام کیا۔جامعۃ الامام محمد بن سعود میں ایسوسی ایٹ پروفیسر رہے۔شاہ فہد قرآن پرنٹنگ منصوبہ کے کوآرڈینیٹر رہے۔انہوں نے کئی فکری تعلیمی اداروں کی بنیاد ڈالی اور سرپرستی کی اور تمام عمر تحقیقی و معروضی بنیادوں پر کام کیا۔ ایک ہزار سے زیادہ سیمینارمنعقد کئے، اسلام کے علمی ورثہ پر کام کرایا،بین المذاہب ہم آہنگی پر کام کیا۔ملی کونسل کے سکریٹری رہے۔قاضی پبلیشر قائم کیا۔ ان کتابوں کی اشاعت کی جن کی پالیسی سازی میں اہمیت ہے۔ ملک میں موجود معاشی نظام پر شریعت کی رہنمائی کے لئے مجلس بنائی۔قاضی مجاہد الاسلام کے ساتھ مل کر انہوں نے فقہ اکیڈمی انڈیا کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا۔ اسی طرح انہوں نے اقلیت سے متعلق حکومت کی پالیسیوں پر نظر رکھنے کے لئے ایک تھنک ٹینک کی بنیاد ڈالی۔مدارس اور مساجد کی تعمیر میں تعاون کیا۔مسلمانوں کو سیاسی طور پر بیدار کرنے کے لئے ملی کونسل بنائی۔

سابق ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیئر ڈاکٹر عبد العلیم نے کہا کہ منظور صاحب کی شخصیت میں جو دور اندیشیاں میں نے دیکھیں وہ کم ہی لوگوں میں ہوتی ہیں۔وہ ایک ماڈرن یونیورسٹی اسلامی تشخص کے ساتھ بنانا چاہتے تھے۔ شعبہ معاشیات کے پروفیسرمحمد طارق نے کہا کہ وہ ایک مختلف جہتوں پر کام کرتے تھے۔علمی محاذ پر ان کی خدمات لا ثانی ہیں۔

سوشل سائنس کے سابق ڈین پروفیسر شمیم انصاری نے کہا کہ منظور عالم صاحب نے عالمی سطح پر ملت اسلامیہ کی رہنمائی کی اور بین الاقوامی اسکالرز سے روابط مضبوط کئے۔پروفیسر کفیل قاسمی،سابق ڈین، فیکلٹی آف آرٹس نے کہا کہ ان کی زندگی علوم اسلامیہ کی سرپرستی میں گزری ہے،ان کی رحلت سے فکری قیادت کا خلا پیدا ہوگیا ہے۔سابق رجسٹرار اے ایم یو پروفیسر جاوید اختر نے کہا کہ ایک آدمی اپنی مختصر سی زندگی میں اتنابڑا کام کرسکتاہے منظور عالم صاحب کے کارہائے نمایاں سے ہمیں سبق ملتا ہے،ان کے مضامین ریسرچ کا درجہ رکھتے تھے۔شعبہ سنی دینیات کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ندیم اشرف نے کہا کہ منظور صاحب ہمیشہ اپنے چھوٹوں سے شفقت،ان کی اصلاح اور رہنمائی کرتے تھے۔شعبہ شیعہ دینیات کے چیئرمین پروفیسر اصغر اعجاز قائمی نے کہا کہ ڈاکٹر منظورصاحب کا کام آفاقی تھا اور وہ ہمہ جہت شخصیت کے حامل تھے۔

پروفیسر محمد حبیب اللہ قاسمی ڈین، دینیات فیکلٹی نے کہا کہ انہوں نے مختلف علوم کو فروغ دینے کے لئے جو ادارے بنائے ان کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔اللہ ان کے کاموں کو شرف قبولیت عطا کرے۔پروفیسر عبید اللہ فہد نے صدارتی خطاب میں کہا کہ ڈاکٹر منظور عالم عظیم علمی منصوبہ اور دینی فکر کے حامل تھے۔ان میں صبر و تحمل اور مختلف المزاج افراد کو ساتھ لے کر چلنے کا جذبہ تھا،وہ ملت اسلامیہ کے نوجوانوں کی تربیت علمی بنیادوں پر کرنا چاہتے تھے۔پروگرام کا آغاز قاری محمد اعظم کی تلاوت کلام پاک سے ہوا اور پروفیسر مولانا حبیب اللہ قاسمی کی دعاء پر مجلس کا اختتام ہوا۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande