ادھمپور اور ریاسی میں ٹرانسپورٹروں نے چکا جام ہڑتال کی
ادھمپور اور ریاسی میں ٹرانسپورٹروں نے چکا جام ہڑتال کی جموں، 15 جنوری (ہ س)۔ ادھمپور اور ریاسی اضلاع میں گاڑیوں کی فٹنس خدمات کے متعلق فیصلے کے خلاف ٹرانسپورٹروں نے مکمل چکّا جام کیا، جس کے باعث دونوں اضلاع میں عوامی نقل و حمل مکمل طور پر معطل ر
Chala jam


ادھمپور اور ریاسی میں ٹرانسپورٹروں نے چکا جام ہڑتال کی

جموں، 15 جنوری (ہ س)۔ ادھمپور اور ریاسی اضلاع میں گاڑیوں کی فٹنس خدمات کے متعلق فیصلے کے خلاف ٹرانسپورٹروں نے مکمل چکّا جام کیا، جس کے باعث دونوں اضلاع میں عوامی نقل و حمل مکمل طور پر معطل رہی۔احتجاج کے دوران بسیں، منی بسیں، ٹیکسیاں اور سوموز سڑکوں سے غائب رہیں، جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، خاص طور پر جموں جانے والے مسافر بری طرح متاثر ہوئے۔ ادھمپور میں درماندہ مسافروں نے بتایا کہ عوامی سواری نہ ملنے کے باعث انہیں اپنے سفر جاری رکھنے میں سخت دقت پیش آئی۔

ٹرانسپورٹروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے متعدد انتباہات کے باوجود متنازعہ حکم واپس نہیں لیا گیا، جس پر مجبوراً ہڑتال کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔ ایک ٹرانسپورٹر کے مطابق، انہوں نے پہلے ہی اپنے تحفظات حکام تک پہنچا دیے تھے، مگر کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔ٹرانسپورٹروں کے مطابق محکمہ ٹرانسپورٹ کی حالیہ ہدایت کے تحت ادھمپور اور ریاسی کے گاڑی مالکان کو فٹنس سرٹیفکیٹ کے لیے جموں جانا ہوگا، جبکہ اس سے قبل یہ سہولت مقامی سطح پر دستیاب تھی۔ انہوں نے اس فیصلے کی منطق پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس سے غیر ضروری مالی بوجھ اور انتظامی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔

ٹرانسپورٹ یونین نے مطالبہ کیا کہ ادھمپور اور ریاسی میں گاڑیوں کی فٹنس خدمات دوبارہ مقامی سطح پر بحال کی جائیں، جیسا کہ ماضی میں رائج تھا۔

عوامی ٹرانسپورٹ کی بندش کے باعث دونوں اضلاع میں معمولاتِ زندگی جزوی طور پر متاثر رہے، اور لوگوں کو کام، علاج اور دیگر ضروری امور کے لیے آمد و رفت میں دشواری پیش آئی۔آخری اطلاع ملنے تک محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے کوئی سرکاری ردعمل موصول نہیں ہوا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande