بھوپال میونسپل کارپوریشن کونسل کی میٹنگ میں زبردست ہنگامہ، بی جے پی-کانگریس کے کارپوریٹرز نے احتجاج کیا
بھوپال، 13 جنوری (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں منگل کو ہوئی میونسپل کارپوریشن کونسل کی میٹنگ میں زوردار ہنگامہ ہوا۔ میونسپل کارپوریشن کے سلاٹر ہاوس میں گائے کے گوشت کے معاملے کو لے کر بی جے پی-کانگریس کے کارپوریٹرز نے سخت احتجاج کی
بھوپال میونسپل کارپوریشن کونسل کی میٹنگ میں زبردست ہنگامہ، بی جے پی-کانگریس کے کارپوریٹرز نے احتجاج کیا


بھوپال میونسپل کارپوریشن کونسل کی میٹنگ میں زبردست ہنگامہ، بی جے پی-کانگریس کے کارپوریٹرز نے احتجاج کیا


بھوپال میونسپل کارپوریشن کونسل کی میٹنگ میں زبردست ہنگامہ، بی جے پی-کانگریس کے کارپوریٹرز نے احتجاج کیا


بھوپال، 13 جنوری (ہ س)۔

مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں منگل کو ہوئی میونسپل کارپوریشن کونسل کی میٹنگ میں زوردار ہنگامہ ہوا۔ میونسپل کارپوریشن کے سلاٹر ہاوس میں گائے کے گوشت کے معاملے کو لے کر بی جے پی-کانگریس کے کارپوریٹرز نے سخت احتجاج کیا۔ اپوزیشن نے اس معاملے میں سیدھے طور پر میئر اور ایم آئی سی (میئر ان کونسل) کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان کے استعفیٰ کی مانگ کی ہے۔ وہیں معاملے سے دکھی دو بی جے پی کارپوریٹرز کونسل کی میٹنگ چھوڑ کر چلے گئے۔

بھوپال میونسپل کارپوریشن کونسل کی منگل کو آئی ایس بی ٹی آڈیٹوریم میں منعقدہ میٹنگ شروع ہونے پر کانگریس کارپوریٹرز صدر کی کرسی کے سامنے پہنچ گئے۔ انہوں نے نعرے بازی کرتے ہوئے میئر مالتی رائے سے استعفیٰ کی مانگ کی۔ کانگریس کارپوریٹرز نے کہا کہ کنٹریکٹر ہی نہیں، اس معاملے سے جڑے سبھی رہنماوں اور افسران کے نام سامنے آنے چاہئیں۔ وہیں، وارڈ 12 سے بی جے پی کارپوریٹر دیویندر بھارگو نے اپنی ہی کونسل کے خلاف مورچہ کھولتے ہوئے شہر میں چل رہے غیر قانونی سلاٹر ہاوس کو فوری بند کرنے کی مانگ کی۔ احتجاج درج کرانے کے لیے وہ اپنی جیکٹ پر ’سلاٹر ہاوس بند کرو‘ کے پمفلٹ چپکا کر ایوان پہنچے۔ ایوان کے اندر ’’میئر استعفیٰ دو‘‘ کے نعروں کے درمیان کافی دیر تک کام متاثر رہا۔

میٹنگ کے دوران بی جے پی کے سینئر کارپوریٹر پپو گھاڑگے اور سریندر باٹھیکا سمیت کئی کارپوریٹرز نے احتجاج درج کرایا۔ ایم آئی سی ممبر آر کے سنگھ بگھیل نے کہا کہ اس معاملے میں قصورواروں پر سخت کارروائی کی جائے اور ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جائے۔ کانگریس کارپوریٹرز نے کہا کہ سلاٹر ہاوس کی کمپنی کے لیے میئر ان کونسل نے اجازت دی تھی، اس کی جانچ کی جائے۔ بی جے پی دیویندر بھارگو نے کہا کہ ایسی کیا مجبوری تھی کہ بی جے پی کی حکومت ہونے کے باوجود گائے کٹ رہی ہے۔

بی جے پی کارپوریٹر دیویندر بھارگو نے ایوان سے واک آوٹ کر دیا۔ انہوں نے اعلیٰ سطحی جانچ کمیٹی تشکیل دینے کی مانگ کی اور کہا کہ کمیٹی میں میونسپل کارپوریشن کے افسران اور عوامی نمائندے شامل نہ ہوں۔ ایم آئی سی ممبر اور بی جے پی ضلع صدر رویندر یتی نے بھی اس مانگ کی حمایت کی۔ ایوان کو 20 منٹ ملتوی کرنے کی مانگ کر آرڈر نکالنے کو کہا۔ ہنگامے کے بعد ایوان کی کارروائی آدھے گھنٹے کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ آدھے گھنٹے کارپوریشن کی میٹنگ ملتوی رہی۔ میٹنگ دوبارہ شروع ہوئی تو ایم آئی سی پر کارروائی کی مانگ کو لے کر کانگریس کارپوریٹرز صدر کی کرسی کے سامنے آ گئے۔ بی جے پی کارپوریٹر نے بھی احتجاج کیا۔ وہ سامنے بیٹھ کر گئو کشی کرنے والوں کو پھانسی کی سزا دینے کی مانگ کرنے لگے۔

کارپوریشن صدر کشن سوریہ ونشی نے ایوان میں ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ پورے شہر کو جھنجھوڑنے والا ہے اور اس میں جو بھی قصوروار ہے، اسے بخشا نہیں جائے گا۔ وہیں اپوزیشن ایف آئی آر درج کرانے اور ذمہ دار افسران پر کارروائی کی مانگ پر اڑا رہا۔ کارپوریشن صدر نے فریق اور اپوزیشن دونوں کی بات سننے کا یقین دلایا اور ایجنڈے سے پہلے سلاٹر ہاوس معاملے پر بحث کرانے کی بات کہی۔ میئر مالتی رائے نے کہا کہ اس معاملے میں صرف بحث نہیں بلکہ سخت کارروائی ہونی چاہیے اور متعلقہ افسران پر فوری ایکشن لیا جائے۔

اس دوران اقتدار اور اپوزیشن متحد نظر آئے اور ایک آواز میں ذمہ دار افسران کی معطلی کی مانگ کی۔ بی جے پی کارپوریٹرز نے صاف کہا کہ جب تک کارروائی نہیں ہوگی، وہ اپنی کرسی پر نہیں بیٹھیں گے۔

وہیں کانگریس کارپوریٹرز نے مطالبہ کیا کہ صرف ایک افسر نہیں بلکہ سبھی ذمہ داروں پر کارروائی ہو۔ اپوزیشن ممبران کا الزام تھا کہ شہر میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے اور آلودہ پانی کے مسئلے سے عوام پریشان ہیں، جبکہ انتظامیہ ان سنگین مسئلوں پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔ ہنگامے کے درمیان سب سے چونکانے والی صورتحال تب بنی جب میٹنگ شروع ہونے کے ایک گھنٹے بعد تک میئر مالتی رائے اور کونسل صدر کی کرسیاں خالی رہیں۔ دونوں اعلیٰ عہدیداران کے ایوان میں وقت پر موجود نہ ہونے پر کارپوریٹرز نے ناراضگی ظاہر کی، جس سے شور شرابہ اور بڑھ گیا۔ یہاں بتا دیں کہ بھاری ہنگامے کے شور میں شہر کی ترقی سے مربوط تین اہم تجویزوں پر ہونے والی بحث ہونا باقی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande