
محمد شاہد گنگوہی نے آر ٹی آئی اور سول سوسائٹی کی مدد سے ملوث حکام کی تفتیش کا مطالبہ کر دیانئی دہلی، 13 جنوری(ہ س)۔ دہلی کے ترکمان گیٹ میں واقع مسجد فیض الٰہی کے احاطہ پر میونسپل کارپوریشن دہلی (ایم سی ڈی) کی انہدامی کارروائی کے بعد ہائی کورٹ کی ڈائریکشن اور لینڈ اینڈ اسٹیٹ کارپوریشن کی فائنڈنگ رپورٹ کی خلاف ورزیوں پر شدید سوال اٹھ گئے ہیں۔ سوشل اینڈ آر ٹی آئی ایکٹیوسٹ محمد شاہد گنگوہی نے اس معاملے کو سامنے لاتے ہوئے ملوث حکام کے خلاف تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔7 جنوری 2026 کو ایم سی ڈی نے مسجد فیض الٰہی کے قریبی علاقے میں غیر قانونی تعمیرات کو ہٹانے کے لیے انہدامی کارروائی کی۔ اس کارروائی میں الزام کے مطابق ایک ڈائیگناسٹک سینٹر، ایک بنکویٹ ہال اور دو حدود کی دیواریں شامل تھیں۔ تاہم، مسجد کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ یہ زمین وقف ملکیت ہے اور اس پر کوئی تعمیرات غیر قانونی نہیں تھیں۔دہلی ہائی کورٹ نے 6 جنوری 2026 کو ایم سی ڈی، وزارت شہری ترقی، ڈی ڈی اے اور وقف بورڈ کو نوٹس جاری کیا تھا، لیکن انہدامی کارروائی کے آغاز سے پہلے کوئی سٹے آرڈر نہیں دیا گیا۔
محمد شاہد گنگوہی، جو ایک معروف آر ٹی آئی ایکٹیوسٹ اور سول سوسائٹی کے فعال ممبر ہیں، نے اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت ہائی کورٹ کی ڈائریکشن اور لینڈ اینڈ ایسٹیٹ کارپوریشن کی فائنڈنگ رپورٹ کی خلاف ورزیوں کے بارے میں معلومات حاصل کی ہیں۔گنگوہی نے کہا: یہ انہدامی کارروائی صرف غیر قانونی تعمیرات تک محدود نہیں تھی، بلکہ وقف کی ملکیت پر حملہ تھا۔ ہائی کورٹ کی ڈائریکشن میں واضح طور پر مانا گیا ہےکہ مسجد کے اطراف کی زمین کی ملکیت کی بابت متعلقہ دعویداروں کو ۶ جنوری کو نوٹس جاری کر انکو اپنا موقف رکھنے کی ہدایت دی ہے جسکی آئندہ تاریخ سماعت 22 اپریل ہے-لیکن ایم سی ڈی نے اسے نظر انداز کر دیا۔انہوں نے مزید کہا”لینڈ اینڈ ایسٹیٹ کارپوریشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ زمین ایم سی ڈی کی ملکیت ہے، لیکن یہ رپورٹ جعلی اور خلاف ورزی پر مبنی ہے۔ ہم ملوث حکام کے خلاف تفتیش کا مطالبہ کرتے ہیں۔“
محمد شاہد گنگوہی نے ملوث حکام کی فہرست بھی پیش کی ہے، جن میں شامل ہیں:وویک اگروال ڈپٹی کمشنر، ایم سی ڈی، سٹی ایس پی زون، اجے جین (ایگزیکیوٹیو انجینئر ورکس،گنگوہی نے کہا کہ تمامتر خلاف ورزیاں پولس انتظامیہ کے پروٹیکشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انجام دی گئی۔پولیس حال میں ویڈیو فوٹیج اور سوشل میڈیا کی سرگرمیوں کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ دیگر متعلقہ افراد کی شناخت کی جا سکے۔ مرکزی تحقیقاتی ایجنسیاں بھی ایم سی ڈی افسران کی کارروائیوں کی جانچ کر رہی ہیں،ایسا سننے میں آیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais