
وارانسی،13جنوری:۔(ہ س )۔
آج دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم میں بھی ملت کے نوجوانوں کو آگے بڑھائیں،یہ انتہائی ضروری ہے۔اسلام نے ہمیں جو پیغام اول اول دیا وہ نماز ،روزہ یا ذکوة کا نہیں تھا ۔اللہ نے جبرئیل امین کے ذریعہ جو پیغام ہم تک پہنچایا اس کا پہلا کلمہ اقرا تھا ،یعنی پڑھنا تھا۔لیکن افسوس آج ہم اس میدان میں بہت پیچھے ہیں۔مذکورہ خیالات کا اظہار پیراڈائز انٹر نیشنل اسکول کے روح رواں اور جمعیت الشبان لمسلمین کے ڈائریکٹر مولانا محمد جنید مکی نے اسکول کے افتتاحی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔پروگرام کی صدارت پروفیسر ڈاکٹرعبد الرحمان جمیل قصاص،ام القریٰ یونیور سٹی مکہ مکرمہ نے کی۔مہمان خصوصی کے طور پر ریاض کے جج قاضی عبد الرحمن ابن احمد الشویمری،،عبد الحفیظ آل محمد ترکستانی ،ڈاکٹر ہاشم اوربنارس ہندو یونیور سٹی کے شعبہ عربی کے صدرپروفیسرقمرشعبان ندوی نے بطور خاص شرکت کی۔اس کے علاوہ علاقے کے سر کردہ اور عام لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔
محمد جنید مکی نے پیراڈائز انٹر نیشنل اسکول کے قیام و اغراض ومقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایک دور تھا جب سائنس ،میڈیکل اور انجیئرنگ کے شعبے میں مسلمانوں نے دنیا کی رہنمائی کی تھی ،قائدانہ کردار ادا کیا تھا۔لیکن آج جب تعلیم کی بات آتی ہے تو ہم سب سے پیچھے نظر آتے ہیں۔امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ کا ایک قول ہے کہ انسان کھانے پینے سے کہیں زیادہ تعلیم کا محتاج ہے۔ہمیں کھانے پینے کی ضرورت24گھنٹے میں محض دو تین بار ہوتی ہے گر تعلیم کی ضرورت ہمہ وقت ہے۔اس کے بغیر زندگی گزارنا مشکل ہے۔علم کے انسان اور جانوروں میں تفریق کرنا بھی مشکل ہے۔میری گزارش ہے کہ جو پودا ہم لوگوں نے یہاں لگایا ہے یہاں کے مقامی ذمہ دار اور لوگ زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں اور تعاون کریں۔انہوں نے کہا کہ اس اسکول کا قیام یہاں کے قرب و جوار کا جائزہ لینے کے بعد عمل میں آیا ہے اس کو تناور درخت بنانے کی ذمہ داری آپ لوگوں کی ہے۔اس سے قبل بیرون ملک سے تشریف لائے مہمانان نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
اس موقع پر اسکول کے کیمپس میں تعمیر شاندار مسجد الشافی کا افتتاح بھی عمل میں آیا ،مکہ مکرمہ سے تشریف لائے مہمان نے ظہر کی نماز کی امامت کے ساتھ مسجد کا افتتاح کیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ