مقبوضہ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ انگ ہے:کویندر گپتا
جموں، 13 جنوری (ہ س)۔ لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر کویندر گپتا نے شکسگام وادی پر چین کے دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کا پورا علاقہ بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے اور کسی بھی توسیع پسندانہ اقدام کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ میڈیا
LG ladakh


جموں، 13 جنوری (ہ س)۔

لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر کویندر گپتا نے شکسگام وادی پر چین کے دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کا پورا علاقہ بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے اور کسی بھی توسیع پسندانہ اقدام کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ میڈیا سے گفتگو کے دوران لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ چین کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ توسیع پسندانہ پالیسیوں سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آج کا بھارت ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہے اور اپنی علاقائی سالمیت کے تحفظ کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر وزارتِ خارجہ صورتِ حال کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہی ہے۔

کویندر گپتا نے یاد دلایا کہ چین اس سے قبل بھی اروناچل پردیش کے بعض حصوں پر دعوے کر چکا ہے، تاہم بھارت اپنی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

پاکستان پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پڑوسی ملک اپنی ذمہ داریوں میں ناکام ہو چکا ہے اور مشکوک معاہدوں میں ملوث ہے۔ ان کا الزام تھا کہ پاکستان میں بلوچستان، سندھ اور کراچی سمیت مختلف علاقوں میں عوامی آوازوں کو دبایا جا رہا ہے اور وہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ پی او جے کے سے متعلق بیانات پر احتیاط کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ اس حوالے سے پارلیمنٹ کی واضح پالیسی موجود ہے۔ انہوں نے 1994 کی پارلیمانی قرارداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں پورے مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ آرمی چیف کے اس بیان پر کہ ’آپریشن سندور‘ جاری ہے، اس پر گپتا نے کہا کہ مسلح افواج کو پوری قوم کی مکمل حمایت حاصل ہے اور فوجی قیادت ذمہ داری کے ساتھ قومی سلامتی کے امور کو دیکھ رہی ہے۔

لداخ میں مبینہ بدامنی سے متعلق بعض علاقائی رہنماؤں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لداخ تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور وہاں کے عوام حکومت کی ترقیاتی پالیسیوں کی بھرپور حمایت کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لداخ کا بجٹ ماضی کے 150 کروڑ روپے سے بڑھ کر اب تقریباً 6,000 کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت نے حال ہی میں شکسگام وادی میں چین کے انفراسٹرکچر منصوبوں پر اعتراض کرتے ہوئے اسے بھارتی علاقہ قرار دیا ہے، جبکہ پاکستان نے 1963 میں غیرقانونی طور پر شکسگام وادی کا 5,180 مربع کلومیٹر علاقہ چین کے حوالے کیا تھا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande