
نئی دہلی،13 جنوری(ہ س)۔ڈاکٹر محمد منظور عالم صاحب کی رحلت ملک و ملت کا ایک عظیم نقصان ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے سعودی عرب کی پر تعیش زندگی کو چھوڑ کر ہندوستان میں رہ کر ملک و ملت کی خدمت کو ترجیح دی۔ وہ صرف انسی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کے ہی مﺅسس نہیں تھے بلکہ کئی اہم ادروں اور تنظیموں کی بنیاد انہوں نے ڈالی تھی۔ اسلامی فقہ اکیڈمی ہو یا آل انڈیا ملی کونسل، تعاون ٹرست ہو یا جینون پبلیکیشن و قاضی پبلیشرز ان کے معماروں و مﺅسیسن میں بھی ان کا نام سر فہرست ہے۔
ڈاکٹر صاحب ایک دردمند دل کے مالک تھے، ملک و ملت کو درپیش مسائل پر وہ اکثر فکر مند رہتے تھے۔ مجھے1986 سے ان کے ساتھ کام کر نے کا موقع ملا۔ چاہے آئی او ایس کا قیام ہو یا ملی کونسل و یونائیٹیڈ ماس میڈیا ایسوسی ایشن(UMMA) ہو یا فیچرس اینڈ نیوز الفارلیز(FANA)۔آل انڈیا ملی کونسل کے قیام کے لئے قاضی مجاہد الاسلام قاسمی صاحب اور ڈاکٹر منظور عام صاحب کے ساتھ ملک کے مختلف حصوں کا دورہ کر نے کا موقع مجھے ملا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ بعض وجوہات کی بنا پر میں ملی کونسل میں شامل نہ ہو سکا۔ڈاکٹر صاحب بہت مخلص و محنتی انسان تھے۔ ان کی کوشش تھی کہ آئی او یس ملک و ملت کا ایک بڑا ٹھنک ٹینک اور تحقیقی ادارہ بن جائے۔ وہ الحمد اللہ ملک کی متعدد یونیورسیٹیوں کے پروگرامس و اساتذہ کو اور متعدد اہم مفکرین کو اپنے ساتھ لینے میں بھی کامیاب ہو ئے تھے۔ انہوں نے کئی اہم عنوانات پر متعدد سیمنارس منعقد کئے، اہم قیمتی مقالے اور کتابیں آئی او ایس کی پلیٹ فارم سے معرض وجود میں آئیں۔
ایک عرصہ سے وہ شدید علیل چل رہے تھے تاہم اس دوران بھی وہ ملک و ملت کے مسائل اور ان کے حل کے تعلق سے فکر مند رہتے تھے۔ وہ بیرون ملک کی بھی متعدد شخصیات کو بھی آئی او ایس سے جوڑنے میں کامیاب ہو ئے۔ متعدد سمیناروں میں ان کی شرکت اس کا بولتا ثبوت ہے۔ڈاکٹر محمد منظور عالم صاحب کی وفات سے ملت کو ایک ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات کو بلند کرے اور جنت الفردوس میں انھیں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔(آمین)
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais