دگ وجے سنگھ مدھیہ پردیش کی سیاست میں ایک بار پھر سرگرم ہوں گے، راجیہ سبھا سیٹ خالی کرنے کا اعلان کیا
بھوپال، 13 جنوری (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور سینئر کانگریس رہنما دگ وجے سنگھ نے راجیہ سبھا انتخاب نہیں لڑنے کا بڑا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے صاف کہا کہ وہ اب اپنی راجیہ سبھا سیٹ خالی کر رہے ہیں۔ مسلسل دو بار راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ
مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور سینئر کانگریس رہنما دگ وجے سنگھ


بھوپال، 13 جنوری (ہ س)۔

مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور سینئر کانگریس رہنما دگ وجے سنگھ نے راجیہ سبھا انتخاب نہیں لڑنے کا بڑا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے صاف کہا کہ وہ اب اپنی راجیہ سبھا سیٹ خالی کر رہے ہیں۔ مسلسل دو بار راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ رہ چکے دگ وجے سنگھ نے تیسری بار انتخاب نہیں لڑنے کا فیصلہ لے کر تمام قیاس آرائیوں کو ختم کر دیا ہے۔ دگ وجے سنگھ نے اپنے اس فیصلے سے پارٹی قیادت کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔ اب ان کا فوکس پوری طرح مدھیہ پردیش کی سیاست اور آئندہ اسمبلی انتخابات پر رہے گا۔

دگ وجے سنگھ کا راجیہ سبھا کا دورانیہ تین مہینے بعد یعنی 9 اپریل کو ختم ہونے جا رہا ہے۔ دگ وجے سنگھ دوسری بار کے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ ہیں۔ دگ وجے سنگھ نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب تیسری بار راجیہ سبھا نہیں جانا چاہتے ہیں۔ منگل کو صحافیوں نے ’سمنوے بھون‘ میں سابق وزیر اعلیٰ سے پوچھا کہ کانگریس کے درج فہرست ذات شعبہ کے ریاستی صدر پردیپ اہیروار نے ایک خط لکھ کر یہ مانگ کی ہے کہ درج فہرست ذات طبقے کے رہنما کو راجیہ سبھا بھیجنے کی تیاری ہے۔ اس بات پر جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’میں اپنی سیٹ خالی کر رہا ہوں۔‘‘ انہوں نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ ان کا ہے اور وہ آگے راجیہ سبھا میں جانے کی دوڑ میں شامل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کئی مسئلے ایسے ہوتے ہیں، جن پر عوامی بحث اور عوامی رضامندی ضروری ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اگر ہم ایمانداری سے آئین کے تحت اس کی تعمیل کرتے رہیں، تو کسی کو کوئی دقت نہیں ہوتی۔ کئی موضوع ایسے ہیں جن پر عام رضامندی ہونی چاہیے اور اسی کے ذریعے آگے بڑھنا چاہیے۔‘‘ دگ وجے سنگھ نے یہ بھی کہا کہ کئی فیصلے ذاتی کنٹرول میں نہیں ہوتے، لیکن اپنی ذمہ داری کو لے کر وہ اتنا ضرور کہہ سکتے ہیں کہ وہ راجیہ سبھا کی سیٹ چھوڑ رہے ہیں۔ ان کے اس بیان کو کانگریس کے اندر ایک واضح اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ وہ اب ریاست کی سیاست میں زیادہ سرگرم کردار نبھانا چاہتے ہیں۔

قابل غور ہے کہ کانگریس اب 2028 میں ہونے والے مدھیہ پردیش اسمبلی انتخابات کی تیاری میں پوری طرح سے لگ گئی ہے۔ سال 2028 میں اسمبلی انتخابات اور سال 2029 میں لوک سبھا انتخابات ہیں۔ وہیں ذرائع کی مانیں تو دگ وجے سنگھ نے اعلیٰ قیادت کو کہا ہے کہ وہ اب مدھیہ پردیش میں پورا ٹائم دینا چاہتے ہیں۔ دگ وجے سنگھ پہلے بھی عوامی طور پر کہہ چکے ہیں کہ وہ مدھیہ پردیش کی سیاست میں سرگرم رہ کر پارٹی تنظیم کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ خبر ہے کہ وہ مدھیہ پردیش کی ہر اسمبلی کا دورہ کر کے زمین تیار کرنے کی تیاری میں ہیں۔ پارٹی ذرائع کی مانیں تو دگ وجے سنگھ کی نرمدا یاترا کا سال 2018 کے اسمبلی انتخابات میں گہرا اثر تھا۔ جس میں انہوں نے گاوں گاوں پیدل یاترا کی تھی۔ اس دوران کانگریس کی اقتدار میں واپسی بھی ہو پائی تھی۔ انہیں وجوہات کو دیکھتے ہوئے پارٹی ہائی کمان سے دگ وجے سنگھ نے کہا کہ وہ ریاست کی سیاست میں اپنا پورا وقت دینا چاہتے ہیں۔ جس پر پارٹی ہائی کمان نے بھی مہر لگا دی ہے۔ حالانکہ، ابھی رسمی اعلان نہیں ہوا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande