مطالعے کے بغیر کوئی بھی انسان باشعور نہیں ہوسکتا: معصوم مرادآبادی
نئی دہلی،10جنوری(ہ س)۔قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کے زیرِ اہتمام عالمی کتاب میلہ 2026 میں مطالعے کی اہمیت پر ایک اہم مذاکرے کا انعقاد کیا گیا۔ اس مذاکرے میں جناب معصوم مرادآبادی، ڈاکٹر خالد علوی، پروفیسر مشتاق عالم قادری اور ڈاکٹر ابراہیم افسر
مطالعے کے بغیر کوئی بھی انسان باشعور نہیں ہوسکتا: معصوم مرادآبادی


نئی دہلی،10جنوری(ہ س)۔قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کے زیرِ اہتمام عالمی کتاب میلہ 2026 میں مطالعے کی اہمیت پر ایک اہم مذاکرے کا انعقاد کیا گیا۔ اس مذاکرے میں جناب معصوم مرادآبادی، ڈاکٹر خالد علوی، پروفیسر مشتاق عالم قادری اور ڈاکٹر ابراہیم افسر بطور پینلسٹ شریک ہوئے، جبکہ پروگرام کی نظامت ڈاکٹر احسن ایوبی نے انجام دی۔ جناب معصوم مرادآبادی نے کہا کہ مطالعے کے بغیر کوئی بھی انسان باشعور نہیں ہو سکتا۔ اپنی سوچ میں وسعت اور تنوع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ نئی چیزوں سے آگاہی حاصل کرنے کے لیے مطالعہ ناگزیر ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگرچہ یہ ڈیجیٹل دور ہے اور لوگوں کے پاس وقت کی کمی ہے، لیکن آج کتابوں تک لوگوں کی رسائی پہلے سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے اور معیاری کتابوں کا مطالعہ گھر بیٹھے بھی ممکن ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ کتابیں انہیں موضوعات پر لکھی جانی چاہئیں جن کی واقعی ضرورت ہو، پامال موضوعات پر کتابیں لکھنا وقت کا ضیاع ہے۔ ڈاکٹر خالد علوی نے کہا کہ ماضی میں لوگوں میں مطالعے کی عادت ہوا کرتی تھی اور گھروں میں میزوں پر مختلف رسائل اور اخبارات رکھے رہتے تھے، جس کی وجہ سے گھر والوں میں مطالعے کا ذوق خود بخود پیدا ہو جاتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ کتاب کا کوئی نعم البدل نہیں ہے، جو شخص مطالعہ کرتا ہے وہ دوسروں سے آگے رہتا ہے۔ آگے بڑھنے اور زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے مطالعہ ضروری ہے۔ کتابوں پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آج اچھی اور معیاری کتابوں کی کمی محسوس کی جا رہی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اچھے اور اہم موضوعات پر کتابیں لکھی جائیں۔ پروفیسر مشتاق عالم قادری نے کہا کہ کتاب اور مطالعہ لازم و ملزوم ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ٹیکسٹ بک کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ قاری اسے بار بار پڑھ سکتا ہے اور اہم نکات کی نشاندہی بھی کر سکتا ہے، جو مطالعے کو مو¿ثر بناتا ہے۔ انھوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ موبائل فون اور جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے خاص طور پر نوجوانوں میں مطالعے کا رجحان کم ہوا ہے، تاہم اس کے باوجود کتاب کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ ڈاکٹر ابراہیم افسر نے کہا کہ مطالعہ جتنا زیادہ ہوگا، انسان کے اندر اتنا ہی اعتماد، شعور اور فکری پختگی پیدا ہوگی۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ مطالعہ نہ صرف علم میں اضافہ کرتا ہے بلکہ انسان کی شخصیت کو بھی نکھارتا ہے۔ مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مطالعے کے فروغ کے بغیر ایک صحت مند اور باشعور معاشرے کی تشکیل ممکن نہیں، اس لیے نئی نسل کو کتابوں سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande