ماضی کے دریچوں سے ہی مستقبل کے راستوں کو روشنی ملتی ہے :افضل منگلوری
نور دیوبندی کی مرتب کردہ عقل کی کنجی اسلاف کے سنہرے اقوال ، دلکش نظمیں اور پھلجڑیاں کتابوں کا اجرا دیوبند،10جنوری ( ہ س )۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو بڑی خصوصیات اور کمالات سے نوازا ہے، پھر ان میں جو اہل حق ، اہل دل اور اہل تجربہ ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ا
ماضی کے دریچوں سے ہی مستقبل کے راستوں کو روشنی ملتی ہے :افضل منگلوری


نور دیوبندی کی مرتب کردہ عقل کی کنجی اسلاف کے سنہرے اقوال ، دلکش نظمیں اور پھلجڑیاں کتابوں کا اجرا دیوبند،10جنوری ( ہ س )۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو بڑی خصوصیات اور کمالات سے نوازا ہے، پھر ان میں جو اہل حق ، اہل دل اور اہل تجربہ ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سے علمی خدمات لینے کے لئے انہیں مزید نعمتوں سے سرفرازکرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے پروفیسر ڈاکٹر اویس صدیقی نے نور دیوبندی کی مرتب کردہ عقل کی کنجی اسلاف کے سنہرے اقوال ، دلکش نظمیں اور پھلجڑیاں کتابوں کے اجرا کے موقع پر کئے۔ دیوبند کے قریب تاریخی بستی نانوتہ میں منعقدہ سادہ تقریب میں معروف شاعر ڈاکٹر افضل منگلوری ، عبداللہ راہی، مولانا اسامہ صدیقی نانوتوی، زہیر احمد زہیر اور ولی وقاص نے خصوصی شرکت کی۔ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر اویس صدیقی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ جن کو نوازتا ہے ان کی زبان سے نکلنے والی باتیں ان کے دلوں کی ترجمانی اور ان کے تجربات علم کی شاہکار ہوتی ہیں۔ وہ دوسرے انسانوں کے لئے بہترین رہنما ثابت ہوتے ہیں۔ اسی کڑی میں نور دیوبندی نے جو کوشش کی ہے وہ قابل تعریف ہے۔ انہوں نے کہا کہ نور دیوبندی نے بڑوں کے اقوال کو بڑی محنت کرکے یکجا کیا ہے اور افادہ¿ عام کے لئے ان کو کتابی شکل میں شائع کیا ہے۔ یقینا یہ نسل نو کے لئے بہترین تحفہ ہے۔ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے معروف شاعر افضل منگلوری نے کہا کہ رب کائنات نے انسان کی ہدایت کے لئے لاتعداد طریقے اختیار کئے ہیں جن میں علماءکے اقوال ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے دریچوں سے ہی مستقبل کے راستوں کو روشنی ملتی ہے ، اکابر کے نقوش سے ہدایت ملتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر شئے میں کوئی نہ کوئی تاثیر رکھی ہے، اللہ کے کلام کی تاثیر ہدایت ہے تو ضروری ہے کہ اہل اللہ کے ملفوظات کو وردِ زباں رکھا جائے۔ اسی مقصد کو نظر میں رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے نور دیوبندی سے یہ علمی کارنامہ انجام دلوایا ہے۔سینئر شاعر عبداللہ راہی نے کہاکہ اس وقت پورے ملک کے اندر ایک انتشار کا ماحول ہے ، ہر اعتبار سے اس میں ادب بھی شامل ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ادب والوں نے نسل نو کی جانب توجہ نہیں دی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب ملک میں بچوں کی نشو ونما کے لئے اردو میں متعدد رسالے اور اخبارات نکل رہے تھے جن میں بچوں کے ادب کے اوپر خصوصی توجہ دی جارہی تھی ، لیکن آج کی سوشل میڈیا نے بچوں کے ادب کو پوری طرح ختم کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ نور دیوبندی نے اس جانب توجہ کی اور دلکش نظموں کے عنوان سے بچوں کے لئے کتاب مرتب کی۔ اس موقع پر نور دیوبندی نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande