
نئی دہلی، 8 ستمبر(ہ س)۔ کسانوں کو چپس اور فرینچ فرائز کے لیے کسانوں سے آلو اگانے کا معاہدہ کرانے والی ایک مربوط کنٹریکٹ فارمنگ کمپنی فارم پیس لمیٹڈ کے حصص نے آج اسٹاک مارکیٹ میں مضبوط آغاز کرکے اپنے آئی پی او سرمایہ کاروں کو زبردست منافع فراہم کیا۔ کمپنی کے حصص آئی پی او کے تحت 59 روپے کی قیمت پر جاری کیے گئے تھے۔ آج یہ بی ایس ای کے ایس ایم ای پلیٹ فارم پر 90 فیصد پریمیم کے ساتھ 112.10 روپے کی سطح پر درج ہوا۔
شاندار لسٹنگ کے بعد خرید کی حمایت کی وجہ سے کچھ ہی دیرمیںکمپنی کے حصص 117.70 روپے کے اوپری سرکٹ کی سطح پر پہنچ گئے۔ تاہم اس سطح پر منافع وصولی کی وجہ سے فروخت شروع ہوجانے کے سبب یہ شیئر گر کر106.50 روپے کی نچلی سرکٹ کی سطح پر گر گئے ۔ تاہم، نچلے سرکٹ کے باوجود، کمپنی کے آئی پی او سرمایہ کار 47.50 روپے یعنی 80.51 فی فیصد منافع میں تھے۔اس آئی پی او میں ایک لاٹ2,000 حصص پر مشتمل تھا۔ اس طرح آئی پی او کے سرمایہ کاروں کو آج نچلے سرکٹ کے باوجود کم از کم 95 ہزار روپے فی لاٹ کا منافع ملا۔
کمپنی کا 32 کروڑ روپے کا آئی پی او یکم اور 3 ستمبر کے درمیان سبسکرپشن کے لیے کھلا تھا۔ آئی پی او کو سرمایہ کاروں کی طرف سے ہلکا ردعمل ملا، جس کے نتیجے میں اسے مجموعی طور پر 1.16 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی) کے لیے مخصوص حصے کو 1.73 گنا سبسکرائب کیا گیا تھا۔ نیز، خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے مخصوص حصے کو صرف 59 فیصد سبسکرائب کیا گیا۔
اس آئی پی او کے تحت 10 روپے کی فیس ویلیو کے 54.24 لاکھ نئے حصص جاری کیے گئے ہیں۔ آئی پی او کے ذریعے اکٹھا کی گئی رقم کمپنی کے قرض کو کم کرنے، ورکنگ کیپٹل کی ضروریات کو پورا کرنے، آئی پی او سے متعلق اخراجات کو پورا کرنے اور عام کارپوریٹ مقاصد کے لیے استعمال کی جائے گی۔
فارم پیس کی مالی صحت کے بارے میں بات کریں تو، جیسا کہ کیپٹل مارکیٹ ریگولیٹر سیبی کو پیش کردہ ڈرافٹ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی) میں دعوی کیا گیا ہے، اس کی مالی صحت مضبوط ہے۔ مالی سال 2023تا2024میں کمپنی کا خالص منافع 6.16 کروڑ روپے تھا، جو اگلے مالی سال 2024تا2025میں بڑھ کر 6.66 کروڑ روپے ہو گیا۔ اسی دوران گزشتہ مالی سال 2025تا2026میں کمپنی کا خالص منافع بڑھ کر 7.53 کروڑ روپے ہو گیا۔
اس دوران کمپنی کی آمدنی میں بھی مسلسل اضافہ ہوا۔ اس نے مالی سال 2023تا2024میں 62.75 کروڑ روپے کی کل آمدنی حاصل کی، جو مالی سال 2024تا2025میں بڑھ کر 79.98 کروڑ روپے ہو گئی اور مالی سال 2025تا2026میں بڑھ کر 90.84 کروڑ روپے ہو گئی۔
اس دوران کمپنی کے قرض میں اتار چڑھاو¿ آیا۔ مالی سال 2023تا2024کے اختتام پر کمپنی پر 7.12 کروڑ روپے کا قرض تھا، جو مالی سال 2024تا2025میں کم ہو کر 2.46 کروڑ روپے رہ گیا۔ اگلے مالی سال 2025تا2026میں کمپنی کے قرض کا بوجھ بڑھ کر 11.28 کروڑ روپے ہو گیا۔
اس دوران کمپنی کے رزرو اور سرپلس میں بھی اتار چڑھاو¿ آیا۔ مالی سال 2023تا2024کے اختتام پر کمپنی کے رزرو اور سرپلس 6.52 کروڑ روپے تھے، جو مالی سال 2024تا2025میں بڑھ کر 32.16 کروڑ روپے ہو گئے اور 2025تا2026میں کم ہو کر 28.32 کروڑ روپے رہ گئے۔
اس دوران کمپنی کی مجموعی مالیت میں اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023تا2024میں یہ 9.04 کروڑ روپے تھی، جو مالی سال 2024تا2025 میں بڑھ کر 35.95 کروڑ روپے اور مالی سال2025تا2026 میں 43.48 کروڑ روپے ہو گئی۔
اسی طرح، ای بی آئی ٹی ڈی اے (ارننگ بیفور انٹریسٹ،ٹیکسز،ڈپریشیئیشنس اینڈ ایمارٹائزیشن) 2023تا2024 میں 9.27 کروڑ روپے کی سطح پرتھا،جو 2024تا2025میں9.26کروڑ روپے کی سطح پر آگیا ۔ اس کے بعد، پچھلے مالی سال2025تا2026 میں ای بی آئی ٹی ڈی اے بڑھ کر 12.48 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی