مغربی بنگال میں ڈینگو کا بڑھتا قہر، متاثرین کی تعداد ساڑھے چار ہزار سے تجاوز
کولکاتا، 7 ستمبر (ہ س)۔ مغربی بنگال میں مانسون کے دوران ڈینگو کا پھیلاؤ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں رواں سال ڈینگو سے متاثرہ افراد کی تعداد ساڑھے چار ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ متاثرین کی تعداد کے لحاظ سے کولکا
مغربی بنگال میں ڈینگو کا بڑھتا قہر، متاثرین کی تعداد ساڑھے چار ہزار سے تجاوز


کولکاتا، 7 ستمبر (ہ س)۔ مغربی بنگال میں مانسون کے دوران ڈینگو کا پھیلاؤ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں رواں سال ڈینگو سے متاثرہ افراد کی تعداد ساڑھے چار ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ متاثرین کی تعداد کے لحاظ سے کولکاتا ریاست میں دوسرے نمبر پر ہے، جبکہ اضلاع میں مرشدآباد سب سے آگے ہے۔محکمہ صحت کے مطابق 30 اپریل تک ریاست میں ڈینگی کے 770 کیسز سامنے آئے تھے۔ 31 جولائی تک یہ تعداد بڑھ کر ایک ہزار 946 ہوگئی، جبکہ 31 اگست تک ڈینگی متاثرین کی تعداد 3 ہزار 966 تک پہنچ گئی۔ اس کے بعد بھی ڈینگی کے نئے کیسز سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔2 ستمبر تک مرشدآباد میں ڈینگو کے 870 کیسز درج کیے جا چکے تھے۔ گزشتہ سات دنوں کے دوران ہی یہاں 96 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔ نادیہ ضلع کے نووڈا بلاک میں بھی ڈینگو کی روک تھام کے لیے گھر گھر مچھر مار اسپرے اور بیداری مہم چلائی جا رہی ہے، تاہم اس کے باوجود متاثرین کی تعداد میں کمی نہیں آئی ہے۔

دوسری جانب کولکاتا میں 2 ستمبر تک 402 افراد ڈینگو کی زد میں آچکے تھے۔ گزشتہ سات دنوں میں شہر میں 62 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ شمالی 24 پرگنہ میں 346، مالدہ میں 331، جنوبی 24 پرگنہ میں 324، نادیہ میں 316، ہگلی میں 293 اور ہاؤڑہ میں 276 ڈینگی متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے۔ مشرقی بردوان میں 233 جبکہ مغربی بردوان میں 140 افراد ڈینگی سے متاثر ہوئے ہیں۔

ڈینگو کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر محکمہ صحت نے انسدادِ ڈینگو مہم کو مزید تیز کرنے کی تیاری شروع کردی ہے۔ ریاستی وزیر صحت شاردوت مکھرجی نے کہا ہے کہ 7 ستمبر سے مہم شروع کی جائے گی اور اس کے تحت ہونے والی سرگرمیوں کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی کی جائے گی۔ انہوں نے اسکولوں سے بچوں کو پوری آستین کی قمیص پہن کر آنے کی ہدایت دینے کی بات بھی کہی ہے۔مانسون کے دوران ڈینگو کے بڑھتے ہوئے کیسز نے ریاستی محکمہ صحت اور مقامی انتظامیہ کی تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔ ایسے میں مچھروں کی افزائش کے مقامات کو ختم کرنے، باقاعدگی سے جراثیم کش اسپرے کرنے اور عوام میں ڈینگوسے بچاؤ کے حوالے سے بیداری بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande