
بلرام پور، 7 ستمبر (ہ س)۔ چھتیس گڑھ کے بلرام پور ضلع میں 100 ایکڑ سے زائد جنگلاتی اراضی پر ہزاروں درختوں کی کٹائی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ بلرام پور ضلع کے رامانوج گنج فاریسٹ رینج کے تحت گمھریا گاؤں کے روزوادامر علاقے میں محکمہ جنگلات کی جانب سے لگائے گئے سیکڑوں درخت کاٹ دیے گئے ہیں۔
مقامی باشندوں نے الزام عائد کیا ہے کہ جنگلاتی اراضی پر قبضے کی کوشش کے تحت مبینہ طور پر زمین مافیا موٹے تنے والے درختوں کے ساتھ ساتھ پھل دار اور طبی خصوصیات رکھنے والے پودوں کو بھی کلہاڑی سے کاٹ رہا ہے۔ یہ بھی الزام ہے کہ جنگلاتی اراضی کو مختلف حصوں میں تقسیم کرنے کے لیے جگہ جگہ مچان بنائے گئے ہیں۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ روزوادامر علاقے میں محکمہ جنگلات نے بڑے پیمانے پر شجرکاری کرائی تھی۔ یہاں آملہ، بہیڑا، ہڑ سمیت کئی قیمتی اور طبی خصوصیات رکھنے والے پودے لگائے گئے تھے۔ الزام ہے کہ گزشتہ تقریباً 15 سے 20 دنوں سے مسلسل درختوں کی کٹائی کی جارہی ہے۔دیہاتیوں کا دعویٰ ہے کہ اب تک 100 ایکڑ سے زائد جنگلاتی اراضی میں موجود ہزاروں درخت کاٹے جاچکے ہیں، جبکہ کئی مقامات پر اب بھی درختوں کی کٹائی جاری ہے۔
مقامی افراد کے مطابق جنگلاتی اراضی پر قبضے کی تیاری کے لیے مختلف مقامات پر مچان بھی بنائے گئے ہیں۔ الزام ہے کہ جنگلاتی زمین کو الگ الگ حصوں میں تقسیم کرنے کے منصوبے کے تحت یہ مچان تعمیر کیے گئے ہیں۔جس علاقے میں محکمہ جنگلات کی جانب سے شجرکاری کی گئی تھی، وہاں بڑی تعداد میں درختوں کی کٹائی کے باعث جنگلاتی اراضی کی شکل بھی تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
اس معاملے میں نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک شخص نے جنگلاتی انتظامی کمیٹی کے صدر ذاکر انصاری پر بھی جنگلاتی اراضی پر قبضے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ دیہاتی کے مطابق گمھریا کے مرکزی راستے کے قریب جنگلاتی زمین پر مبینہ طور پر قبضہ کرکے کھیتی باڑی کی جارہی ہے۔تاہم ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔اسی معاملے کو لے کر گمھریا گاؤں میں ایک میٹنگ بھی بلائی گئی، جس میں جنگلاتی انتظامی کمیٹی کے ارکان اور مقامی دیہاتیوں نے شرکت کی۔دیہاتیوں کے مطابق میٹنگ میں آئندہ ایک ہفتے کے اندر جنگلاتی انتظامی کمیٹی کے صدر کا انتخاب کرانے اور موجودہ صدر ذاکر انصاری کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
مقامی باشندے سوریہ دیو سنگھ نے بتایا کہ روزوادامر میں محکمہ جنگلات کی جانب سے بڑے پیمانے پر شجرکاری کرائی گئی تھی۔ اس میں آملہ، بہیڑا اور ہڑ سمیت طبی خصوصیات رکھنے والے پودے شامل تھے۔انہوں نے الزام لگایا کہ ان پودوں اور درختوں کی کٹائی میں مقامی افراد ہی ملوث ہیں۔
ایک اور گاؤں کے آدمی دواریکا سنگھ نے بتایا کہ جنگلاتی اراضی پر قبضے کی کوشش کے باعث درختوں کو کاٹا جارہا ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 15 سے 20 دنوں سے مسلسل درخت کاٹے جارہے ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ 100 ایکڑ سے زیادہ جنگلاتی زمین پر ہزاروں درخت کاٹے جاچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جس روز گرام پنچایت میں میٹنگ ہوئی، اس دن درختوں کی کٹائی بند رہی۔اس معاملے پر پیر کو رامانوج گنج رینجر ڈاکٹر دلربا اے بانو نے کہا کہ محکمہ جنگلات پورے معاملے میں قانون کے مطابق کارروائی کرے گا۔انہوں نے بتایا کہ سب سے پہلے جنگلاتی انتظامی کمیٹی کے صدر ذاکر انصاری کو عہدے سے ہٹانے کی کارروائی کی جائے گی۔ اس کے بعد جنگلاتی اراضی پر کیے گئے مبینہ غیر قانونی تعمیراتی کاموں کی مشترکہ ٹیم کے ذریعے جانچ کی جائے گی اور غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کیا جائے گا۔درختوں کی کٹائی اور جنگلاتی اراضی پر مبینہ قبضے سے متعلق معاملے میں بھی ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
روزوادامر میں 100 ایکڑ سے زائد جنگلاتی اراضی پر ہزاروں درختوں کی کٹائی کے الزامات نے محکمہ جنگلات کی نگرانی کے نظام پر بھی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت درختوں کی کٹائی اور مبینہ غیر قانونی قبضے پر روک نہ لگائی گئی تو جنگلاتی اراضی پر قبضے کا دائرہ مزید وسیع ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب محکمہ جنگلات نے معاملے میں قانونی کارروائی کا یقین دلایا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan