
سیول(جنوبی کوریا)، 4 ستمبر (ہ س)۔ جنوبی کوریا آبنائے ہرمز سے محفوظ آمدورفت یقینی بنانے میں امریکہ کی مدد کے لیے وہاں اپنے فوجی اہلکار تعینات کرنے کے امکان پر غور کر رہا ہے۔ تاہم اس سلسلے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔
’دی کوریا ہیرالڈ‘ نے جمعہ کو صدارتی دفتر چیونگ وا ڈے کے ایک سینئر عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ فوجی تعیناتی کا فیصلہ جزیرہ نما کوریا میں دفاعی تیاریوں کی صورتحال اور ملکی قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔عہدیدار نے کہا کہ حکومت نے فی الحال کسی مخصوص کارروائی کا فیصلہ نہیں کیا، تاہم آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری راستوں کو یقینی بنانے کے لیے ’’تمام امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے‘‘۔ ان کے مطابق اگر اس اقدام سے جزیرہ نما کوریا میں جنوبی کوریا کی دفاعی تیاریوں پر کوئی نمایاں اثر نہیں پڑتا تو فوجی تعاون کی گنجائش موجود ہوسکتی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنوبی کوریا کی فوج ضرورت پڑنے پر جنگی کارروائی میں امریکہ کا ساتھ دے سکتی ہے، تاہم کسی بھی عملی تعاون سے قبل ملک کی اپنی دفاعی ضروریات کا جائزہ لیا جائے گا۔جنوبی کوریا کے آئین کے آرٹیکل 60 کی شق 2 کے تحت بیرون ملک مسلح افواج کی تعیناتی کے لیے قومی اسمبلی کی منظوری ضروری ہے۔ صدارتی دفتر کے عہدیدار نے کہا کہ حکومت ابھی قومی اسمبلی سے منظوری حاصل کرنے کے مرحلے تک نہیں پہنچی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan