
نئی دہلی، 4 ستمبر(ہ س)۔کلیان جیولرز سمیت ملک کے کئی معروف جیولری برانڈز کے لیے زیورات تیار کرنے والے پرایوریٹی جیولز لمیٹڈ کے حصص نے اپنے آئی پی او سرمایہ کاروں کو خوش کرتے ہوئے آج شیئربازار میں مضبوط آغاز کیا۔ کمپنی کے حصص آئی پی او کے تحت 200 روپے کی قیمت پر جاری کیے گئے تھے۔ یہ آج بی ایس ای پر 12.6 فیصد پریمیم کے ساتھ 225.20 روپے کی سطح پر درج ہوا۔ اسی طرح، این ایس ای پر، یہ حصص 15 فیصد پریمیم کے ساتھ 230 روپے کی سطح پر درج ہوا۔ لسٹنگ کے بعد خریدکیسپورٹ سے اسٹاک 241.50 روپے کی اوپری سرکٹ کی سطح پر پہنچ گیا۔ اس طرح، تجارت کے پہلے دن، کمپنی کے آئی پی او سرمایہ کاروں نے فی حصص 41.50 یعنی20.75 فیصد کا حاصل کیا۔
کمپنی کا 91.50 کروڑ روپے کا آئی پی او 28 اگست سے یکم ستمبر کے درمیان سبسکرپشن کے لیے کھلا تھا۔ آئی پی او کو سرمایہ کاروں کی طرف سے زبردست ردعمل ملا، جس کی وجہ سے اسے مجموعی طور پر 100.45 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ ان میںاہل ادارہ جاتی خریداروں (کیو آئی بی) کے لیے مخصوص حصے کے 39.87 گنا سبسکرائب کیا گیا تھا۔ اسی طرح، غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی) کے لیے مخصوص حصے کو 166.49 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ نیز، خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے مخصوص حصے کو 106.76 گنا سبسکرائب کیا گیا تھا۔
اس آئی پی او کے تحت 10 روپے کی فیس ویلیو کے کل 45.75 لاکھ نئے حصص جاری کیے گئے ہیں۔ کمپنی آئی پی او سے حاصل ہونے والی آمدنی کو اپنے قرض کو کم کرنے، ورکنگ کیپٹل کی ضروریات کو پورا کرنے، آئی پی او کے آغاز سے وابستہ اخراجات کو پورا کرنے اور عام کارپوریٹ مقاصد کے لیے استعمال کرے گی۔
پرایوریٹیجیولس کی مالی صحت کے بارے میں بات کریں تو، جیسا کہ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی) کے مسودے میں دعوی کیا گیا ہے جو کیپٹل مارکیٹ ریگولیٹر ایس ای بی آئی کو پیش کیا گیا ہے، اس کی مالی صحت مضبوط ہے۔ مالی سال 2023-2024میں کمپنی کا خالص منافع 7.15 کروڑ روپے تھا، جو مالی سال2024-2025 میں بڑھ کر 10.51 کروڑ روپے ہو گیا اور مالی سال 2025-2026میں بڑھ کر 17.65 کروڑ روپے ہو گیا۔ اسی کے ساتھ ہی کمپنی کو رواں مالی سال2025-2026 کی پہلی سہ ماہی یعنی 30 جون 2026 تک 6.48 کروڑ روپے کا خالص منافع ہوا۔
اس دوران کمپنی کی آمدنی میں مسلسل اضافہ ہوا۔ اس نے مالی سال 2023-2024میں 410.61 کروڑ روپے کی کل آمدنی حاصل کی، جو مالی سال 2024-2025میں بڑھ کر 435.87 کروڑ روپے ہو گئی اور مالی سال2025-2026 میں بڑھ کر 539.03 کروڑ روپے ہو گئی۔ اسی کے ساتھ ہی کمپنی کو رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی یعنی 30 جون 2026 تک 147.40 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی تھی۔
اس عرصے کے دوران کمپنی کے قرض کے بوجھ میں اتار چڑھاو¿ آیا۔ مالی سال 2023-2024کے اختتام پر کمپنی پر 124.96 کروڑ روپے کا قرض تھا، جو مالی سال 2024-2025میں بڑھ کر 145.85 کروڑ روپے ہو گیا۔ اگلے مالی سال 2025-2026میں کمپنی کا قرض گھٹ کر 102.59 کروڑ روپے رہ گیا۔ اسی دوران کمپنی کا قرضہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی یعنی 30 جون 2026 تک 110.49 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا تھا۔
اس دوران کمپنی کے رزرو اور سرپلس میں بھی مسلسل اضافہ ہوا۔ مالی سال2023-2024کے اختتام پر کمپنی کے رزرو اور سرپلس 91.63 کروڑ روپے تھے، جو مالی سال2024-2025میں بڑھ کر 92.29 کروڑ روپے اور مالی سال 2025-2026میں 125.26 کروڑ روپے ہو گئے۔ اسی دوران رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی یعنی 30 جون 2026 تک کمپنی کا ریزرو اور سرپلس 132.36 کروڑ روپے رہ گیا تھا۔
اس دوران کمپنی کی مجموعی مالیت میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023-2024میں یہ 94.78 کروڑ روپے تھی، جو مالی سال 2024-2025میں بڑھ کر 104.89 کروڑ روپے اور مالی سال2025-2026 میں 138.61 کروڑ روپے ہو گئی۔ اسی کے ساتھ ہی کمپنی کی مجموعی مالیت رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی یعنی 30 جون 2026 تک 145.66 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔
اسی طرح، ای بی آئی ٹی ڈی اے (ارننگ بیفور انٹریسٹ،ٹیکسز،ڈپریشیئیشنس اینڈایمارٹائزیشن) 2023-2024میں 19.35 کروڑ روپے رہی، جو کہ 2024-2025میں بڑھ کر 24.28 کروڑ روپے اور 2025-2026میں بڑھ کر 33.62 کروڑ روپے ہو گئی۔ اسی وقت، کمپنی کا ای بی آئی ٹی ڈی اے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی یعنی 30 جون 2026 تک 10.29 کروڑ روپے کی سطح پر تھا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی