
نئی دہلی، 30 ستمبر(ہ س)۔ سپریم کورٹ نے شاہی عیدگاہ مسجد تنازعہ سے متعلق معاملے کی سماعت بار بار ملتوی ہونے پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔ جسٹس سنجے کمار کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ معاملہ زیر التوا ہے اور مسلسل ایک تاریخ کے بعد دوسری تاریخ ملتی جا رہی ہے۔
سپریم کورٹ اس عرضی پر سماعت کر رہا ہے جس میں الہ آباد ہائی کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا گیا ہے، جس کے تحت ہندو فریق کو بھگوان کرشن کے تمام عقیدت مندوں کا نمائندہ تسلیم کیا گیا تھا۔ سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ اسے تمام فریقوں کے دلائل سننے ہوں گے۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملے میں بھی صورتحال ایسی ہے کہ کیس آگے نہیں بڑھ پا رہا اور ایک کے بعد ایک تاریخ پر سماعت ملتوی ہوتی جا رہی ہے۔
عدالت نے یہ تبصرہ اس وقت کیا جب اسے بتایا گیا کہ ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کرنے والے فریق کسی سمجھوتے تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔ اس سے قبل ہندو فریق کے درمیان جاری اختلافات کو حل کرنے کے امکانات بھی ظاہر کیے گئے تھے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ معاملے کو میرٹ کی بنیاد پر تمام فریقوں کے دلائل سنے گا۔ تاہم وقت کی کمی کے باعث معاملے کی سماعت 6 نومبر تک ملتوی کر دی گئی۔
یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب ہندو فریق نے سول کورٹ میں ایک مقدمہ دائر کیا۔ اس میں دعویٰ کیا گیا کہ شاہی عیدگاہ مسجد کرشن جنم بھومی کی زمین پر تعمیر کی گئی ہے۔یہ سول مقدمہ ہندو دیوتا بھگوان شری کرشن وراجمان اور بعض ہندو عقیدت مندوں کی جانب سے دائر کیا گیا تھا۔ درخواست گزاروں نے شاہی عیدگاہ مسجد کو اس کی موجودہ جگہ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan