
نئی دہلی، 30 ستمبر (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے بدھ کو اتر پردیش پولیس کے طریقہ کار اور تفتیش کے انداز پر سخت ناراضی کا اظہار کیا۔ عدالت نے کہا کہ بہتر ہوگا کہ اتر پردیش پولیس کو ہی تحلیل کرکے تمام مقدمات مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کے حوالے کر دیے جائیں۔ جسٹس سنجے کمار کی بنچ نے ایک فوجداری مقدمے کی سماعت کے دوران یہ تبصرہ کیا اور متعلقہ پولیس افسر کو اگلی سماعت میں ذاتی طور پر پیش ہونے کی ہدایت دی۔
عدالت میں بلندشہر کے خورجہ نگر تھانہ علاقے سے متعلق ایک فوجداری مقدمے کی سماعت ہو رہی تھی۔ اس معاملے میں موقع پر پکڑے گئے موٹر سائیکل سوار ملزم کا نام ایف آئی آر میں ’نامعلوم‘ درج کرنے اور بعد میں حالات کے مطابق نام میں مبینہ تبدیلی کیے جانے پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔عدالت نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہر چیز میں آپ کا کوئی نہ کوئی ایجنڈا ہوتا ہے۔‘‘ عدالت نے کہا کہ یہ ’’بکواس‘‘ کسی نہ کسی مرحلے پر رکنی چاہیے، کیونکہ اس طرح کے طریقہ کار سے تفتیشی ایجنسیوں پر عوام کا اعتماد ختم ہوتا ہے۔
سپریم کورٹ نے اتر پردیش پولیس کی جانب سے داخل کیے گئے جوابی حلف نامے کو مکمل طور پر غیر اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے متعلقہ تفتیشی افسر (آئی او) کو اگلی سماعت میں ذاتی طور پر پیش ہونے کی ہدایت دی۔ عدالت نے اتر پردیش پولیس کو اگلی سماعت سے قبل نیا اور ترمیم شدہ حلف نامہ داخل کرنے کا بھی حکم دیا۔عدالت نے کہا کہ نئے حلف نامے میں تفتیشی افسر کو واضح طور پر بتانا ہوگا کہ جب ملزم کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا تھا تو ایف آئی آر میں اس کا نام ’نامعلوم‘ کیوں درج کیا گیا؟
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan