دنیا کے ممالک اپنے فیصلوں کے عالمی اثرات کو سمجھیں، صرف اپنے مفادات تک محدود نہ رہیں : جے شنکر
نئی دہلی، 30 ستمبر (ہ س)۔ دنیا میں جاری تنازعات کے درمیان وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے عالمی جنوب (گلوبل ساؤتھ) کے ممالک کے مفادات کی وکالت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ممالک کو اپنے فیصلوں کے وسیع تر عالمی اثرات کو سمجھنا چاہیے۔ پالیسی سازوں کی ذمہ داری
External Affairs Minister  Jaishankar


نئی دہلی، 30 ستمبر (ہ س)۔ دنیا میں جاری تنازعات کے درمیان وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے عالمی جنوب (گلوبل ساؤتھ) کے ممالک کے مفادات کی وکالت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ممالک کو اپنے فیصلوں کے وسیع تر عالمی اثرات کو سمجھنا چاہیے۔ پالیسی سازوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کا جائزہ لیں کہ ان کے فیصلوں کا دوسرے ممالک، خاص طور پر عالمی جنوب کی معیشتوں پر کیا اثر پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ کسی فیصلے سے پیدا ہونے والی مشکلات کو صرف یہ کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ ’ایسا کرنا مقصد نہیں تھا‘۔

نیویارک میں پیر کو ایشیا سوسائٹی کے زیر اہتمام ایک پروگرام میں جے شنکر نے کہا کہ یوکرین اور ایران-خلیج کے تنازعات نے عالمی جنوب کی معیشتوں پر سنگین اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس کا سب سے زیادہ اثر توانائی کے شعبے پر پڑا ہے۔ تیل کی منڈی پہلے ہی دباؤ میں ہے اور جب توانائی کی فراہمی سے متعلق سیاست اس میں شامل ہو جاتی ہے تو صورت حال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ اس سے قیمتوں پر دباؤ بڑھتا ہے، جبکہ اس وقت منڈی کو استحکام کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ بحیرۂ اسود کے خطے سے اناج کے بڑے برآمد کنندگان کی سپلائی متاثر ہونے کی صورت حال پیدا ہو رہی ہے۔ روس اور مشرق وسطیٰ کے بڑے کھاد پیدا کرنے والے ممالک بھی تنازعات سے متاثر ہوئے ہیں۔ اس سے کھاد کی قلت بڑھنے کا خدشہ ہے۔ اس کے علاوہ ال نینو کی صورت حال بھی غذائی بحران کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔

جے شنکر نے کہا کہ ممالک اپنے فیصلے کرتے وقت صرف اپنے مفادات اور حالات کو مدنظر نہیں رکھ سکتے۔ انہیں دوسرے ممالک کے حالات اور اپنے فیصلوں کے ممکنہ نتائج پر بھی غور کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی ملک اتنا خود مرکز نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنی دنیا میں فیصلے کرے اور بعد میں یہ کہے کہ اس کا مقصد دوسروں کے لیے مشکلات پیدا کرنا نہیں تھا۔

جے شنکر نے کہا کہ تیل کی فراہمی کا تحفظ اور اس سے وابستہ سیاست ایک دوسرے پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ اس سے بحران مزید سنگین ہو رہا ہے۔ اس کے اثرات صرف توانائی تک محدود نہیں ہیں۔ خوراک اور کھاد کی فراہمی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنازعات کے اثرات مالیاتی شعبے پر بھی پڑتے ہیں۔ ایسے وقت میں سرمایہ محفوظ منڈیوں کی طرف منتقل ہوتا ہے اور عالمی جنوب سے باہر نکل جاتا ہے۔ اس سے ان ممالک پر معاشی دباؤ بڑھتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande