
نئی دہلی، 30 ستمبر (ہ س)۔ مرکزی حکومت نے گرین انرجی کوریڈور کے تیسرے مرحلے کے اسکیم کو منظوری دے دی ہے۔ یہ اسکیم بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم کے ساتھ ریاستوں کے درمیان بجلی کی سپلائی کے نظام کو فروغ دے گی۔ یہ اسکیم 135 گیگاواٹ قابل تجدید توانائی کی نکاسی اور 50 گیگاواٹ بیٹری انرجی اسٹوریج میں معاون ثابت ہوگی۔
پروجیکٹ پر 1,86,405 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ اس میں 54,082 کروڑ روپے کی مرکزی مالی مدد شامل ہے۔ اسکیم کو مالی سال 2032-33 تک مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ یہ مدد ریاست کے اندر ٹرانسمیشن چارجز کو کم کرنے اور بجلی کی لاگت کو قابو میں رکھنے میں بھی معاون ہوگی۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں بدھ کو مرکزی کابینہ نے مذکورہ تجویز کو منظوری فراہم کی۔ مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے نیشنل میڈیا سینٹر میں کابینہ کے فیصلوں کی اطلاع دی۔
وزیر کے مطابق اس سے ریاست کے اندر قابل تجدید توانائی کے انضمام اور بجلی کی نکاسی میں آسانی ہوگی۔ بین ریاستی ٹرانسمیشن نظام مضبوط ہوگا۔ یہ اسکیم سال 2035 تک 900 گیگاواٹ غیر فوسل ایندھن پر مبنی بجلی کی صلاحیت قائم کرنے کے ہدف کو حاصل کرنے میں معاون ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ اس سے بجلی کی غیر مستقل فراہمی، گرڈ میں بھیڑ اور زیادہ طلب کے وقت بجلی کی کٹوتی کو قابو کرنے میں مدد ملے گی۔ اس کے ساتھ ہی شمسی توانائی دستیاب نہ ہونے کے اوقات میں بجلی کی طلب کو بھی پورا کیا جا سکے گا۔
جی ای سی-III بھارت کے 2035 تک 900 گیگاواٹ کی نصب شدہ غیر فوسل توانائی کی صلاحیت کے ہدف کو حاصل کرنے میں معاون ہوگی۔ یہ طویل مدتی توانائی کے تحفظ میں تعاون دے گی، کاربن فٹ پرنٹ کو کم کرے گی اور بجلی، مینوفیکچرنگ، تعمیرات اور توانائی کے ذخیرہ کرنے کے شعبوں میں روزگار کے مواقع پیدا کرے گی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد