اتر پردیش میں مشروم کی کاشت کی جانب کسانوں کا بڑھتا رجحان، ایودھیا کے اتسو نے ڈیڑھ لاکھ سے کھڑا کیا کروڑوں کا کاروبار
لکھنؤ، 29 ستمبر (ہ س)۔ اتر پردیش میں مشروم کی کاشت اب کسانوں کے لیے محض متبادل فصل نہیں رہی بلکہ کم لاگت اور کم زمین میں بہتر آمدنی کا ذریعہ بنتی جا رہی ہے۔ سال 25-2024 میں ریاست میں تقریباً 51 ہزار میٹرک ٹن مشروم کی پیداوار ہوئی، جو ملک کی تقریبا
UP-MUSHROOM-PRODUCTION-UTSAV


UP-MUSHROOM-PRODUCTION-UTSAV


لکھنؤ، 29 ستمبر (ہ س)۔ اتر پردیش میں مشروم کی کاشت اب کسانوں کے لیے محض متبادل فصل نہیں رہی بلکہ کم لاگت اور کم زمین میں بہتر آمدنی کا ذریعہ بنتی جا رہی ہے۔ سال 25-2024 میں ریاست میں تقریباً 51 ہزار میٹرک ٹن مشروم کی پیداوار ہوئی، جو ملک کی تقریباً 4.27 لاکھ میٹرک ٹن مجموعی پیداوار کا تقریباً 13 فیصد ہے۔ کم زمین، کنٹرول شدہ ماحول اور نسبتاً کم وقت میں پیداوار کی سہولت نے کسانوں اور نوجوانوں میں اس کاشت کی جانب دلچسپی بڑھائی ہے۔

ایودھیا کے سوہاول علاقے کے کسان خاندان سے تعلق رکھنے والے اتسو سنگھ کی کہانی اس تبدیلی کی ایک مثال ہے۔ تقریباً ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے کی ابتدائی سرمایہ کاری سے مشروم کی پیداوار شروع کرنے والے اتسو نے اپنے کاروبار کو بڑھاتے ہوئے ایک کروڑ روپے سے زیادہ کی پیداوار کی سطح تک پہنچا دیا ہے۔

ایودھیا کے سوہاول بلاک کے دہرورا گاؤں کے رہنے والے مہیش سنگھ کے بیٹے اتسو سنگھ نے 2019 میں مشروم کی کاشت شروع کی تھی۔ ایم سی اے کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ان کے سامنے ملازمت یا کسی دوسرے کاروبار میں جانے کے راستے تھے، لیکن انہوں نے روایتی کاشت کاری کو بڑے پیمانے پر آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ کھیتی باڑی سے وابستہ خاندان میں پرورش پانے والے اتسو نے عام فصلوں کے بجائے ایسی زرعی سرگرمی تلاش کرنے کی کوشش کی، جس میں کم جگہ میں زیادہ قدر والی پیداوار حاصل کی جا سکے۔ اسی سلسلے میں انہوں نے مشروم کی کاشت کا انتخاب کیا۔

مشروم کی پیداوار کے بارے میں معلومات نہ ہونے کی وجہ سے اتسو نے ابتدا میں سوشل میڈیا اور دیگر دستیاب ذرائع سے اس کی تکنیک کو سمجھا۔ جب انہوں نے خاندان کو اس کاشت کے بارے میں بتایا تو ابتدائی ردعمل حوصلہ افزا نہیں تھا۔ اہل خانہ نے معلومات اور تجربے کی کمی کے باعث نقصان کا خدشہ ظاہر کیا۔ تاہم اتسو کے سمجھانے کے بعد خاندان تیار ہو گیا اور انہوں نے لکھنو¿ میں ابتدائی تربیت حاصل کی۔

اس کے بعد سردیوں کے تقریباً چار ماہ کے موسم کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں مشروم کی پیداوار شروع کی گئی۔ ابتدائی سرمایہ کاری تقریباً ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے تھی۔ پہلی فصل سے تقریباً 30 کوئنٹل مشروم حاصل ہوئے۔ اتسو نے مقامی مارکیٹ میں فروخت کے لیے منڈی سے رابطہ کیا۔ پیداوار کو بازار میں اچھا ردعمل ملا اور لاگت نکالنے کے بعد بہتر آمدنی حاصل ہوئی۔ پہلی کامیابی نے نہ صرف ان کا اعتماد بڑھایا بلکہ خاندان کو بھی اس کام کے امکانات پر یقین دلایا۔

اس کے بعد اتسو نے صرف تجربے کی بنیاد پر پیداوار بڑھانے کے بجائے تکنیکی معلومات حاصل کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے ہماچل پردیش کے سولن میں چمبا گھاٹ واقع مشروم ریسرچ ڈائریکٹوریٹ (ڈی ایم آر) میں تربیت حاصل کرکے پیداوار کی سائنسی تکنیک سیکھی۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ پیداوار کا دائرہ بڑھایا گیا۔ ایک چھوٹی جھونپڑی سے شروع ہونے والی کاشت اب تقریباً ڈیڑھ ایکڑ رقبے میں بنائے گئے 35 شیڈ تک پہنچ چکی ہے۔ سال بھر پیداوار برقرار رکھنے کے لیے اب ایئر کنڈیشنڈ شیڈ بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔

اتسو کے مطابق اس وقت ان کے یہاں موسمی طور پر تقریباً 450 سے 500 کوئنٹل مشروم پیدا ہوتے ہیں، جبکہ سال بھر کی پیداوار کے انتظام کے تحت ہر ماہ تقریباً 80 کوئنٹل تک مشروم کی پیداوار اور بازار میں فراہمی کی جا رہی ہے۔ ان کا کاروبار ایک کروڑ روپے سے زیادہ کی پیداوار کی سطح تک پہنچ چکا ہے۔ ان کے یہاں براہ راست اور بالواسطہ طور پر تقریباً 250 افراد کو روزگار ملنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

ایودھیا کے علاوہ ان کے مشروم کی سپلائی لکھنؤ، گورکھپور، بستی، امبیڈکر نگر اور سدھارتھ نگر سمیت کئی اضلاع میں کی جا رہی ہے۔ اتسو کے مطابق بازار میں بٹن مشروم کی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے۔ تھوک اور خوردہ بازار میں اس کی قیمت تقریباً 120 سے 220 روپے فی کلوگرام تک ہے، تاہم قیمت بازار اور وقت کے مطابق تبدیل ہوتی رہتی ہے۔

مشروم کی پیداوار میں کامیابی کے بعد اتسو اب اسے دوسرے کسانوں اور نوجوانوں تک پہنچانے کے لیے تربیت بھی دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق ریاست کے تقریباً 15 اضلاع میں تربیتی پروگرام چلائے جا رہے ہیں۔ آس پاس کے گاو¿ں اور دیگر اضلاع سے کسان اور نوجوان پیداوار کی تکنیک، شیڈ کی تعمیر، درجہ حرارت پر قابو پانے اور بازار سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے ان کے پاس پہنچ رہے ہیں۔

اتسو کا کہنا ہے کہ اپنی یونٹ قائم کرنے کے لیے انہوں نے اب تک کسی سرکاری امداد سے فائدہ نہیں اٹھایا ہے۔ تاہم ریاست میں مشروم کی پیداوار کو فروغ دینے کے لیے مرکز اور ریاستی حکومت کی مختلف اسکیموں کے ذریعے مالی امداد اور تکنیکی تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔

دو سو مربع فٹ کے شیڈ سے بھی آغاز

ریاست میں چھوٹے کسانوں کو مشروم کی پیداوار سے جوڑنے کے لیے 200 مربع فٹ کے شیڈ ماڈل کو بھی اسکیم میں شامل کیا گیا ہے۔ مربوط باغبانی ترقی مشن (ایم آئی ڈی ایچ) کے تحت اہل مستفیدین کو مختلف زمروں میں 40 سے 50 فیصد تک سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔ 200 مربع فٹ کی پیداواری یونٹ کے لیے زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ روپے تک کی امداد کا انتظام ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں اب تک ایسی تقریباً 80 مشروم پیداواری یونٹ قائم کی جا چکی ہیں۔

مشروم کی مکمل پیداواری زنجیر کو مضبوط بنانے کے لیے کمپوسٹ اور اسپان تیار کرنے والی یونٹوں کو بھی اسکیم میں شامل کیا گیا ہے۔ گزشتہ سال ایسی 30 یونٹوں کو 40 فیصد سبسڈی دینے کی منظوری دی گئی تھی۔ اس سے مقامی سطح پر پیداوار کے لیے ضروری مواد کی دستیابی کا نظام مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔

لکھنؤ، پریاگ راج، سہارنپور، مرزا پور، جونپور، ہردوئی، بستی، میرٹھ، پرتاپ گڑھ، رائے بریلی اور سون بھدر سمیت ریاست کے کئی اضلاع میں کسان مشروم کی کاشت اپنا رہے ہیں۔ محکمہ باغبانی کی جانب سے کسانوں کو پیداواری تکنیک، یونٹ چلانے، معیار اور دیگر تکنیکی پہلوو¿ں کے بارے میں تربیت دی جا رہی ہے۔

درجہ حرارت اور نمی کو کنٹرول کرنا ضروری

مشروم کی پیداوار میں موسم اور ماحول کی خصوصی اہمیت ہے۔ موسمی کاشت کے لیے ستمبر کے آخر سے اکتوبر کا وقت موزوں سمجھا جاتا ہے اور عام طور پر یہ سائیکل مارچ کے ابتدائی ہفتوں تک چلایا جاتا ہے۔ پیداوار کے دوران درجہ حرارت اور نمی میں توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔ عام طور پر 20 سے 30 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت اور تقریباً 80 سے 90 فیصد نمی کو موزوں سمجھا جاتا ہے۔ صفائی ستھرائی اور پیداواری تکنیک میں معمولی سی کوتاہی بھی پیداوار کو متاثر کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس شعبے میں مالی امداد کے ساتھ تکنیکی تربیت کا کردار بھی اہم ہو جاتا ہے۔

مشروم کی پیداوار میں توسیع دیہی معیشت کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کر سکتی ہے۔ بڑے کھیت کی ضرورت نہ ہونے کے باعث محدود زمین رکھنے والے کسان اور دیہی خاندان بھی چھوٹے پیمانے پر اس سے منسلک ہو سکتے ہیں۔اپنی مدد آپ گروپوں کے ذریعے دیہی خواتین کو پیداوار، پیکنگ اور پروسیسنگ سے جوڑنے کے امکانات بھی تلاش کیے جا رہے ہیں۔ ہوٹلوں، ریستورانوں، خوردہ بازار اور فوڈ پروسیسنگ صنعت میں مانگ ہونے کے باعث مقامی سطح پر مارکیٹنگ کے امکانات بھی بڑھے ہیں۔

وزیر نے کہا- کسانوں کو آمدنی کے نئے ذرائع سے جوڑنا ہدف

باغبانی اور زرعی مارکیٹنگ کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) دنیش پرتاپ سنگھ نے کہا کہ ریاستی حکومت کسانوں کو روایتی فصلوں کے ساتھ آمدنی کے نئے ذرائع سے جوڑنے کی سمت میں کام کر رہی ہے۔ مشروم کی پیداوار میں کم زمین کی ضرورت اور کنٹرول شدہ حالات میں پیداوار کے امکان کو دیکھتے ہوئے اسے کسانوں کے لیے مفید سرگرمی کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ باغبانی کی مربوط ترقی کے لئے مشن کے تحت مشروم کی پیداواری یونٹوں کے لیے 40 سے 50 فیصد تک سبسڈی کا انتظام ہے۔ چھوٹے کسانوں کے لیے 200 مربع فٹ کے شیڈ ماڈل میں زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ روپے تک کی امداد کا انتظام کیا گیا ہے۔ پیداواری صلاحیت بڑھانے کے ساتھ ساتھ کسانوں کو تربیت اور تکنیکی رہنمائی فراہم کرنے پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande