
ماسکو، 29 ستمبر (ہ س/ریا نووستی)۔ گلوبل وارمنگ کے باعث روسی محققین نے 2015 سے اب تک آرکٹک خطے میں مختلف سائز کے 15 سے زائد نئے جزائر دریافت کیے ہیں۔ یہ معلومات ایڈمرل ماکاروف اسٹیٹ یونیورسٹی آف میری ٹائم اینڈ اِن لینڈ شپنگ کی میری ٹائم اکیڈمی انسٹی ٹیوٹ کے شعبۂ بحری ہائیڈروگرافی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر آندرے لیونوف نے ریا نووستی کو دی۔
لیونوف نے کہا کہ وہ نئے دریافت ہونے والے جزائر کی درست تعداد نہیں بتا سکتے، تاہم 2015 سے اب تک آرکٹک میں 15 سے زائد جزائر کی شناخت کی جا چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ محققین نئی زمینی ساختوں کے بننے کے عمل پر کئی برسوں تک نظر رکھتے ہیں۔ سیٹلائٹ امیجنگ کے ذریعے اس عمل کی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے اور بعض اوقات یہ یقینی بنانے میں ایک سال سے بھی زیادہ وقت لگ جاتا ہے کہ سامنے آنے والی نئی زمینی ساخت واقعی ایک جزیرہ ہے۔
نئے جزائر کے وجود میں آنے کی وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے ہائیڈروگرافر نے موسمیاتی تبدیلی کو ایک اہم وجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ گلوبل وارمنگ کے باعث گلیشیئرز کے سرے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ گلیشیئرز کے پیچھے ہٹنے سے وہ بعض علاقے جو پہلے برف سے ڈھکے ہوئے تھے، آہستہ آہستہ نمایاں ہونے لگتے ہیں اور نئی زمینی ساختوں کی شناخت ممکن ہو جاتی ہے۔
لیونوف نے کہا کہ ریموٹ سینسنگ ٹیکنالوجی میں ہونے والی ترقی نے ساحلی علاقوں میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا پتہ لگانا آسان بنا دیا ہے۔ پہلے محققین کو نئی زمینی ساختوں کی شناخت کے لیے ان دشوار گزار علاقوں میں جا کر براہِ راست مشاہدہ کرنا پڑتا تھا۔ اب سیٹلائٹ امیجنگ کے ذریعے دور بیٹھ کر ہی ساحلی علاقوں اور گلیشیئرز میں ہونے والی تبدیلیوں کی نگرانی کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مختلف اوقات میں لی گئی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرکے محققین یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ کسی علاقے میں کس طرح کی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ اس کے بعد طویل عرصے تک نگرانی کی بنیاد پر نئی زمینی ساخت کی تصدیق کی جاتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی