
کاٹھمنڈو، 29 ستمبر (ہ س)۔ نیپال کے منانگ ضلع کے نارفا بھومی کے بلند ہمالیائی علاقے میں برفانی تودہ گرنے کے بعد لاپتہ افراد کی تلاش مشکل ہو گئی ہے۔ اس حادثے میں اب تک چار افراد کی لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں، جبکہ 12 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ خدشہ ہے کہ وہ برف کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔
نارفا بھومی دیہی علاقے کے ہملونگ میں اتوار کو تقریباً 5,200 میٹر کی بلندی پر برفانی تودہ گرا تھا۔ اس حادثے میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ نیپال نیشنل ماو¿نٹین گائیڈ ایسوسی ایشن کے مطابق تلاش کے دوران اتوار کو دو اور پیر کو دو لاشیں برآمد کی گئیں۔ ہلاک ہونے والوں کی شناخت وریندر گرونگ، گھنشیام رائے، چھیوی بھوٹے اور پاسانگ بھوٹے کے طور پر ہوئی ہے۔
امدادی کارکن اب بھی جائے حادثہ کے قریب موجود ہیں، تاہم انہوں نے دوبارہ برف ہٹانے کے کام میں دشواری کا اظہار کیا ہے۔ علاقے میں ایک اور برفانی تودہ گرنے کا خطرہ بھی برقرار ہے۔ ایسے میں مزید کارروائی کے حوالے سے اعلیٰ سطح پر فیصلہ کیے جانے کا امکان ہے۔
منانگ کے اسسٹنٹ چیف ڈسٹرکٹ آفیسر کرشن پرساد پوڈیل نے بتایا کہ برفانی تودہ گرنے کے بعد سے 12 افراد لاپتہ ہیں۔ خدشہ ہے کہ وہ برف میں دبے ہوئے ہیں۔ بلند ہمالیائی علاقے میں بڑے پیمانے پر برفانی تودہ گرنے کے باعث تلاش اور بچاؤ کا کام انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ پوڈیل نے بتایا کہ منگل کو جائے حادثہ پر تلاش اور بچاؤ کا آپریشن نہیں چلایا گیا، کیونکہ علاقے کی دشوار گزار جغرافیائی صورتحال اور حادثے کی نوعیت کے باعث کارروائی کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پیر کو امدادی کارکنوں نے برف میں تقریباً آٹھ فٹ گہرائی تک کھدائی کی، لیکن اس کے باوجود کوئی لاش یا شخص نہیں ملا۔ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ جب تک برف پگھل نہیں جاتی، لاپتہ افراد کی تلاش ممکن نہیں ہے۔
اطلاعات کے مطابق کاٹھمنڈو کی دو سیاحتی کمپنیوں کی جانب سے بیس کیمپ قائم کرنے کے لیے گئے 27 نیپالی مزدور برفانی تودے کی زد میں آ گئے تھے۔ ان میں سے 11 افراد برفانی تودہ گرنے کے بعد بحفاظت واپس آ گئے۔ چار افراد کی لاشیں برآمد ہو چکی ہیں، جبکہ باقی 12 افراد کی حالت کے بارے میں اب بھی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد