
انقرہ، 28 ستمبر (ہ س /ریا نووستی)۔ ترکیہ نے کہا ہے کہ وہ یوکرین تنازعہ کے حل اور بحیرہ اسود میں بحری آمدورفت کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کرے گا۔ترکیہ حکومت کے ایک ذریعے نے روسی خبر رساں ایجنسی ریا نووستی کو یہ اطلاع دی۔ ذریعے کے مطابق، ترکیہ حکومت سمندری آمدورفت کی سلامتی بحال کرنے، تجارتی جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے اور تنازعہ کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطہ برقرار رکھے گی۔
ذریعے نے کہا کہ ترکیہ کا ماننا ہے کہ بحیرہ اسود کو جنگی علاقہ نہیں بننا چاہیے اور تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے ساتھ ساتھ سمندری راستوں پر بلا رکاوٹ نقل و حرکت یقینی بنائی جانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ترکیہ مذاکراتی عمل دوبارہ شروع کرنے اور بحیرہ اسود میں طویل مدتی سلامتی کے انتظام کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے کی غرض سے اپنی سفارتی کوششیں تیز کرے گا۔
ذریعے نے بتایا کہ ترکیہ بحری آمدورفت کی سلامتی کو تنازعہ کو مزید بڑھنے سے روکنے والے اہم عوامل میں سے ایک سمجھتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ترکی روس اور یوکرین دونوں کے ساتھ رابطے برقرار رکھنے اور ایسا نظام وضع کرنے کی کوشش کرے گا جسے دونوں فریق قبول کرسکیں۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ مذاکراتی عمل دوبارہ شروع کرانے اور یوکرین کی سرحدوں سے باہر تنازعہ پھیلنے کے خطرے کو کم کرنے کے لیے سفارتی ذرائع کا استعمال جاری رکھے گا۔ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اس سے قبل بھی بحیرہ اسود کی سلامتی کے حوالے سے بات چیت کی معلومات دے چکے ہیں۔ وہیں کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے تصدیق کی ہے کہ ترکیہ نے بحیرہ اسود کی سلامتی سے متعلق تجاویز روس کے سامنے رکھی ہیں۔
ذریعے نے حالیہ مہینوں میں بحیرہ اسود میں شہری سمندری بنیادی ڈھانچے اور تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق، جولائی میں یوکرینی ڈرون حملے میں بحیرہ اسود میں ترکی کے ڈرائی کارگو جہاز ایم وی ریحان ساری کو نقصان پہنچا تھا، جس میں ایک ملاح کی موت اور تین دیگر کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ اس کے علاوہ نووروسیسک بندرگاہ کے قریب ترکیہ کے پرچم والے ڈرائی کارگو جہاز ایم وی گ±لّوک پر بھی ڈرون حملے کی اطلاع سامنے آئی تھی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد