
واشنگٹن، 28 ستمبر (ہ س/ریا نووستی)۔ کینیڈا میں ان نازیوں اور ان کے ساتھیوں سے متعلق دستاویزات عام کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے، جنہوں نے دوسری جنگ عظیم کے بعد کینیڈا میں پناہ لی تھی۔ اوٹاوا میں روس کے سفیر اولیگ اسٹیپانوف نے یہ دعویٰ کیا ہے۔
روسی خبر رساں ایجنسی ریا نووستی سے گفتگو میں اسٹیپانوف نے کہا کہ تاریخ دانوں، صحافیوں اور یہودی تنظیموں کا ایک طبقہ کینیڈا کی حکومت پر متعلقہ دستاویزات عام کرنے اور ملک کے ماضی کا دیانت داری سے جائزہ لینے کے لیے دباؤ بڑھا رہا ہے۔ تاہم، ان کے مطابق کینیڈین حکام اس معاملے میں ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں۔
اسٹیپانوف نے کینیڈا کی پارلیمنٹ میں سابق وافن-ایس ایس گالیشین ڈویژن کے فوجی یاروسلاو ہنکا کو اعزاز دیے جانے سے متعلق تنازعہ کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے پر سامنے آنے والے ردعمل سے ظاہر ہوا کہ کینیڈا میں اس طرح کے معاملات پر وسیع پیمانے پر اعتراضات موجود ہیں۔
ہنکا کو ستمبر 2023 میں کینیڈا کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں اس وقت کے اسپیکر انتھونی روٹا نے اعزاز دیا تھا۔ بعد میں یہ سامنے آیا کہ ہنکا نے دوسری جنگ عظیم کے دوران وافن-ایس ایس گالیشین ڈویژن میں خدمات انجام دی تھیں، جس کے بعد اس واقعے پر کینیڈا اور عالمی سطح پر شدید تنقید ہوئی۔ روٹا نے بعد میں اسپیکر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
اسٹیپانوف نے یہ بھی کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران نازی جرمنی کی وافن-ایس ایس گالیشین ڈویژن میں ہنکا کی خدمات کی تاریخ سنگین سوالات پیدا کرتی ہے۔ انہوں نے روسی تحقیقاتی کمیٹی کے چیئرمین الیگزینڈر باستریکین کے اس دعوے کا بھی حوالہ دیا، جس میں ہنکا اور ان کے ساتھیوں پر کم از کم 500 سوویت شہریوں کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔
تاہم، 500 افراد کے قتل میں ہنکا کے ذاتی کردار سے متعلق یہ دعویٰ روسی حکام کا الزام ہے اور اسے آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد