
تہران، 28 ستمبر (ہ س)۔ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں جاسوسی سرگرمیوں میں مصروف امریکہ کی ایک اور خودکار زیرِ آب ڈرون (اے یو وی) کو روک کر قبضے میں لے لیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ستمبر کے بعد یہ اس نوعیت کی دوسری کارروائی ہے۔
ایرانی حکومت کے بین الاقوامی نیوز نیٹ ورک پریس ٹی وی کے مطابق، آئی آر جی سی بحریہ نے اتوار کو جاری ایک بیان میں کہا کہ اس کی فورسز نے خفیہ معلومات اور الیکٹرانک جنگ کی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے ایک منظم اور پیچیدہ آپریشن کے تحت امریکی زیرِ آب ڈرون کو پکڑا۔ آئی آر جی سی کے مطابق یہ ڈرون آبنائے ہرمز میں نگرانی اور جاسوسی کی سرگرمیوں میں مصروف تھا۔
ایرانی فورسز نے قبضے میں لیے گئے ڈرون کی شناخت ’ریمَس 600‘ کے طور پر کی ہے۔ یہ ایک جدید خودکار زیرِ آب ڈرون ہے، جسے بغیر پائلٹ کے سمندر کے اندر مختلف مشنز کے لیے چلایا جا سکتا ہے۔ آئی آر جی سی نے کہا کہ ڈرون اس وقت اس کے ماہرین کے قبضے میں ہے اور اس سے متعلق معلومات حاصل کرنے کا کام جاری ہے۔
آئی آر جی سی بحریہ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز بند ہے اور وہ آبی راستے میں خطرناک سرگرمیوں اور بغیر اجازت نقل و حرکت کے خلاف کارروائی جاری رکھے گی۔
اس سے قبل ستمبر میں آئی آر جی سی بحریہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے آبنائے ہرمز کے داخلی راستے کے قریب امریکا کی ایک اور جدید بغیر پائلٹ زیرِ آب ڈرون کو روک کر قبضے میں لیا تھا۔ اس نظام کی شناخت ’ڈائیو-ایل ڈی‘ کے طور پر کی گئی تھی۔ آئی آر جی سی کے مطابق، ڈائیو-ایل ڈی کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی کمپنی اینڈوریل انڈسٹریز نے تیار کیا ہے اور اسے امریکی بحریہ کے بغیر پائلٹ زیرِ آب ڈرون پروگرام کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد