
ڈھاکہ، 28 ستمبر (ہ س)۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل بنگلہ دیش (ٹی آئی بی) نے میرپور میں واقع رڈا ایم سی ایچ-ایف پی ہیلتھ سینٹر میں لوٹ مار اور توڑ پھوڑ، نیز ای سی بی چتر علاقے میں کنٹینٹ کریئیٹر سلمان مقتدر کے اسٹوڈیو میں توڑ پھوڑ کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
تنظیم نے ان واقعات کو قانون و انتظام اور جواب دہی سے متعلق وسیع تر مسائل کے تناظر میں دیکھتے ہوئے غیر جانب دارانہ تحقیقات اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
بنگلہ دیش کے بنگالی روزنامے پروتھم آلو کے مطابق، ٹی آئی بی نے اتوار کو جاری اپنے بیان میں کہا کہ ایسے واقعات کو الگ الگ معاملات کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ تنظیم نے حکومت سے زمینوں پر قبضے اور جبری وصولی جیسی سرگرمیوں کو موثر طریقے سے روکنے اور قصورواروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔
ٹی آئی بی نے حکمراں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے رہنماوں اور کارکنوں میں اصلاح کے لیے ملک گیر مہم چلائے۔
ٹی آئی بی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر افتخار الزمان نے میرپور کے رڈا ایم سی ایچ-ایف پی مرکز کے واقعے کو حکومت اور حکمراں جماعت کے لیے تشویش ناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ صحت مرکز تقریباً پانچ دہائیوں سے غریب اور کمزور طبقات کی خواتین اور بچوں کو طبی خدمات فراہم کر رہا ہے۔
انہوں نے اگست 2024 کے بعد بی این پی کے بعض رہنماوں اور کارکنوں پر زمینوں پر قبضے، جبری وصولی اور مختلف علاقوں میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کے الزامات کا بھی ذکر کیا۔
افتخار الزماں نے کشور گنج میں ایک آبی ذخیرے کے کنٹرول کو لے کر بی این پی کے دو مقامی دھڑوں کے درمیان ہونے والی جھڑپ اور ای سی بی چتر میں سلمان مقتدر کے اسٹوڈیو میں توڑ پھوڑ کا بھی ذکر کیا۔ ٹی آئی بی کے مطابق، ان واقعات کو اگست 2024 کے بعد سامنے آنے والے وسیع تر حالات کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے فوری طور پر مو¿ثر اصلاحی اقدامات نہیں کیے تو زمینوں پر قبضے اور جبری وصولی جیسی سرگرمیاں مزید سنگین صورت اختیار کر سکتی ہیں۔ ان کے مطابق، بعض معاملات میں پارٹی کی سطح پر اخراج کی کارروائی کی گئی ہے، لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی کی مو¿ثریت پر سوالات برقرار ہیں۔
میرپور کے واقعے میں پولیس کے کردار کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس نے معاملے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے، جسے 3 اکتوبر تک اپنی رپورٹ پیش کرنی ہے۔پولیس کے مطابق، واقعے میں مبینہ طور پر ملوث کئی افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ