
کٹھمنڈو، 27 ستمبر (ہ س)۔ نیپال سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس چولندر شمسیر جنگ بہادر رانا کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ کٹھمنڈو کرائم برانچ کی ٹیم نے اتوار کی صبح مہاراج گنج میں واقع ان کی رہائش گاہ سے انہیں حراست میں لیا۔
سابق چیف جسٹس رانا کے خلاف کٹھمنڈو کرائم برانچ میں شکایت درج ہونے کے بعد انہیں گرفتار کیے جانے کی اطلاع دی گئی ہے۔ تاہم، پولیس نے ابھی تک شکایت اور الزامات کی تفصیلات عام نہیں کی ہیں۔ پولیس نے کہا ہے کہ جلد ہی تمام تفصیلات عوام کے سامنے پیش کی جائیں گی۔
رانا 2 جنوری 2019 کو نیپال سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بنے تھے۔ 13 فروری 2022 کو پارلیمنٹ میں ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع ہونے کے بعد آئینی ضابطوں کے تحت وہ خود بخود معطل ہو گئے تھے۔ طویل عرصے تک ان کے خلاف سپریم کورٹ میں معاملہ چلتا رہا۔ حال ہی میں سپریم کورٹ نے ان کے خلاف شروع کی گئی مواخذے کی کارروائی مکمل نہ ہونے کی وجہ سے ان کی پنشن اور سبکدوشی کے بعد ملنے والی تمام رقوم جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔
اس وقت کے وزیر اعظم کے پی شرما اولی کی جانب سے پارلیمنٹ تحلیل کیے جانے کے فیصلے کو رانا کی سربراہی والی آئینی بنچ نے مسترد کر دیا تھا۔ اسی دوران اولی کے خلاف بنے نیپالی کانگریس اور ماؤ نواز اتحاد کے رہنما شیر بہادر دیوبا کو وزیر اعظم مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد