بلوچستان میں بی ایل ایف کی خواتین شاخ کے حملے کا دعویٰ، 9 پاکستانی فوجی اہلکار ہلاک
کوئٹہ، 27 ستمبر(ہ س)۔ بلوچستان میں سرگرم علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی رواں ماہ قائم کی گئی خواتین کی مسلح شاخ ’کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن(سی اے ڈی)’ نے دو کارروائیوں کے دوران پاکستانی فوج کے کم از کم 9
بلوچستان میں بی ایل ایف کی خواتین شاخ کے حملے کا دعویٰ، 9 پاکستانی فوجی اہلکار ہلاک


کوئٹہ، 27 ستمبر(ہ س)۔

بلوچستان میں سرگرم علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی رواں ماہ قائم کی گئی خواتین کی مسلح شاخ ’کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن(سی اے ڈی)’ نے دو کارروائیوں کے دوران پاکستانی فوج کے کم از کم 9 اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔بی ایل ایف کے ترجمان بلوچ کی جانب سے ہفتہ کو میڈیا کو جاری بیان کے مطابق خواتین جنگجوؤں نے تربت کے علاقے جوسک میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) ہائی وے جبکہ قلات کے منگچر شہر میں کوئٹہ-کراچی ہائی وے پر پاکستانی فوج کے خلاف کارروائیاں کیں۔

ترجمان نے دعویٰ کیا کہ 22 اور 25 ستمبر کو ہونے والی ان کارروائیوں میں پاکستانی فوج کی کوئیک رسپانس فورس کی تین گاڑیوں کو دھماکوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ بی ایل ایف کے مطابق ان حملوں میں فوج کے کم از کم 9 اہلکار مارے گئے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ان کارروائیوں میں بی ایل ایف کی قربان یونٹ نے بھی کریمہ ڈویژن کو معاونت فراہم کی۔ تنظیم کے ترجمان کے مطابق لڑائی کے دوران قربان یونٹ کے کمانڈر کیپٹن چکر مراد عرف دلیپ جان بھی ہلاک ہوئے۔ بی ایل ایف کے ترجمان نے جوسک اور منگچر میں ہونے والی دونوں کارروائیوں کو تنظیم کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاکستانی فوج کو جانی نقصان پہنچا ہے۔ تاہم، فوج کی جانب سے ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق یا فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے آنے کی اطلاع نہیں ہے۔بیان کے مطابق کیپٹن چکر مراد فروری 2021 میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے پلیٹ فارم سے علیحدگی پسند تحریک میں باضابطہ طور پر شامل ہوئے تھے۔ وہ کئی برس تک جیل میں بھی رہے اور رہائی کے بعد مبینہ طور پر بی ایل ایف میں کل وقتی طور پر شامل ہوگئے تھے۔

بلوچستان میں بی ایل ایف سمیت مختلف مسلح تنظیموں اور پاکستانی سکیورٹی فورسز کے درمیان طویل عرصے سے جھڑپیں جاری ہیں۔ سی پیک اور اہم شاہراہیں بھی ماضی میں متعدد حملوں کا مرکز رہی ہیں، جس کے باعث بلوچستان میں سکیورٹی صورتحال بدستور حساس ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande