25 لاکھ کی سرمایہ کاری کے بدلے 75 ہزار ماہانہ منافع کا وعدہ، تاجر نے کمپنی پر دھوکہ دہی کا الزام لگایا
علی گڑھ, 27 ستمبر (ہ س) ۔ کاروبار میں ہر ماہ 3 فیصد یقینی منافع دینے کا وعدہ کرکے ایک معذور تاجر سے 25 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کرانے اور بعد میں مزید 2 لاکھ روپے لینے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ تاجر نے دہلی کی ایک کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر اور علی
25 لاکھ کی سرمایہ کاری کے بدلے 75 ہزار ماہانہ منافع کا وعدہ، تاجر نے کمپنی پر دھوکہ دہی کا الزام لگایا


علی گڑھ, 27 ستمبر (ہ س) ۔

کاروبار میں ہر ماہ 3 فیصد یقینی منافع دینے کا وعدہ کرکے ایک معذور تاجر سے 25 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کرانے اور بعد میں مزید 2 لاکھ روپے لینے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ تاجر نے دہلی کی ایک کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر اور علی گڑھ کے ایک باشندے پر کمپنی کے کاروبار، فیکٹری اور مالی حالت سے متعلق گمراہ کن معلومات فراہم کرکے سرمایہ کاری کرانے کا الزام عائد کیا ہے۔ شکایت کنندہ کا کہنا ہے کہ کمپنی کی جانب سے فراہم کیا گیا سامان بھی بڑی مقدار میں خراب نکلا۔

اوپرکوٹ کے رہنے والے محمد دانش نصیر نے اس سلسلے میں کوتوالی نگر میں مقدمہ درج کرایا ہے۔ مقدمے میں دہلی کے رہنے والے واحد علی، منیجنگ ڈائریکٹر و مالک آرفک اپلائنسز لمیٹڈ، اور اپنے چچازاد بھائی محمد مجاہد کمال کو نامزد کیا گیا ہے۔ دانش کے مطابق محمد مجاہد کمال کمپنی میں سیلز اینڈ مارکیٹنگ سے وابستہ تھا اور دسمبر 2025 سے اسے کمپنی میں سرمایہ کاری کے لیے تیار کر رہا تھا۔

شکایت کے مطابق 14 فروری 2026 کو دانش کو دہلی میں کمپنی کا احاطہ دکھایا گیا اور فیکٹری و کاروبار کی مضبوط مالی حالت کے بارے میں یقین دلایا گیا۔ اس کے بعد 23 فروری کو 25 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کے سلسلے میں جنرل بزنس ایگریمنٹ کیا گیا۔ معاہدے میں علی گڑھ کے علاقے کے لیے برانچ آفس/سی ایف آپریٹر بنانے اور 25 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کے عوض ہر ماہ 75 ہزار روپے منافع دینے کی بات کہی گئی تھی۔

دانش کا الزام ہے کہ اس نے مختلف تاریخوں میں مجموعی طور پر 25 لاکھ روپے کمپنی کو ادا کیے۔ کمپنی کی جانب سے دفتر، ملازمین، ٹرانسپورٹ اور دیگر کاروباری اخراجات برداشت کرنے کا بھی یقین دلایا گیا تھا۔ شکایت کنندہ کے مطابق کاروبار شروع کرانے کے نام پر اسے الگ احاطہ اور بعد میں ریٹیل شاپ کرائے پر لینے کی ضرورت پڑی، جس کے باعث اسے اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑے۔

شکایت میں مزید کہا گیا ہے کہ دکان شروع کرتے وقت کمپنی کی جانب سے 2 لاکھ روپے سکیورٹی ڈپازٹ کے طور پر بھی لیے گئے۔ مئی 2026 میں کمپنی نے کچھ سامان فراہم کیا، تاہم دانش کے مطابق اس میں سے بڑی مقدار خراب تھی اور فروخت کے قابل نہیں تھی۔ بعد میں جون میں تقریباً 63 ہزار روپے مالیت کا سامان کمپنی کو واپس کیا گیا۔

محمد دانش نصیر کے مطابق معاہدے کے تحت 25 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری پر ہر ماہ 75 ہزار روپے منافع دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، تاہم اسے صرف 50 ہزار روپے کی ادائیگی کی گئی۔ اس کے بعد کمپنی کی جانب سے کیے گئے وعدوں اور فراہم کردہ معلومات پر اسے شک ہوا، جس پر اس نے کمپنی کی جانب سے بتائے گئے مختلف پتوں اور دعوؤں کی جانچ کرائی۔ شکایت کنندہ کا کہنا ہے کہ جانچ کے دوران کمپنی سے متعلق بعض دعوے درست نہیں پائے گئے۔

تاجر نے پولیس سے معاملے کی مکمل تحقیقات، سرمایہ کاری کی رقم اور دیگر مالی لین دین کی جانچ اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

سی او سنجیو کمار شرما کے مطابق معاملے کی جانچ کرائی جا رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں سامنے آنے والے حقائق اور شواہد کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande