
علی گڑھ, 27 ستمبر (ہ س)۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبہ یونین کی بحالی اور انتخابات کے مطالبے کو لے کر گزشتہ سات روز سے جاری احتجاج کو اب طالبات کی بھی حمایت مل گئی ہے۔ اتوار کو عبداللہ کالج کی بڑی تعداد میں طالبات احتجاجی مقام پر پہنچیں اور طلبہ یونین کی بحالی کے مطالبے کی حمایت میں آواز بلند کی۔ طالبات کی قیادت شاہین نے کی۔غورطلب ہے کہ سات دن سے بھوک ہڑتال کررہے یاسر کی طبیعت بھی مسلسل گر رہی ہے، آج بھی ڈاکٹروں کی ٹیم نے ان کا معائنہ کیا۔ بتاتے چلیں یاسر فہد کو مسلسل طلبا کی حمایت حاصل ہورہی ہے اور انکا جذبہ مسلسل بڑھتا جارہاہے۔
عبداللہ کالج سے طالبات کی قیادتے کرتے ہوئے شاہین اور طحہ نے کہا کہ وہ عبداللہ کالج سے اے ایم یو کیمپس میں جاری احتجاج میں شامل ہونے کے لیے آئی ہیں اور طلبہ یونین کی بحالی کے مطالبے کی حمایت کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیمپس میں طلبہ یونین کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے، کیونکہ طلبہ و طالبات کو اپنے مختلف تعلیمی، رہائشی اور دیگر مسائل کے لیے مؤثر نمائندگی کے پلیٹ فارم کی ضرورت ہے۔
احتجاج میں شامل طالبات نے کہا کہ طلبہ یونین کی بحالی سے کیمپس میں جمہوری نظام کو تقویت ملے گی اور طلبہ کو اپنے مسائل منتخب نمائندوں کے ذریعے انتظامیہ کے سامنے رکھنے کا موقع ملے گا۔ اس دوران ’’انقلاب زندہ باد‘‘، ’’وی وانٹ جسٹس‘‘ اور ’’وی وانٹ یونین‘‘ کے نعرے بھی لگائے گئے۔
طلبہ کی جانب سے کہا گیا کہ فیس میں اضافے کے خلاف احتجاج کے دوران انتظامیہ کی جانب سے دسمبر 2025 میں اے ایم یو اسٹوڈنٹس یونین (AMUSU) کے انتخابات کرائے جانے کی تحریری یقین دہانی کرائی گئی تھی، لیکن دسمبر 2025 گزرنے کے باوجود انتخابات نہیں ہوئے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں اب واضح تاریخ کا اعلان کیا جانا چاہیے۔
احتجاجی طلبہ نے کہا کہ یاسر فہد نے انتظامیہ سے طلبہ یونین انتخابات کے معاملے پر واضح اور اطمینان بخش جواب کے لیے 48 گھنٹے کا وقت مانگا تھا، تاہم ان کے مطابق مقررہ مدت مکمل ہونے سے قبل ہی یاسر فہد کے خلاف معطلی کی کارروائی کی گئی اور کیمپس میں داخلے پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔ طلبہ نے سوال اٹھایا کہ اگر طلبہ کو اپنی بات رکھنے کے لیے مقررہ وقت بھی نہ دیا جائے تو وہ اپنے مسائل کس جمہوری طریقے سے انتظامیہ تک پہنچائیں؟
طلبہ کا کہنا ہے کہ کیمپس میں کئی بنیادی مسائل موجود ہیں۔ ریسرچ اسکالرز کو تحقیقی آلات کی ضرورت ہے، جبکہ فرسٹ اور سیکنڈ ایئر کے طلبہ کو تعلیمی مسائل کا سامنا ہے۔ نئے طلبہ کے لیے ہاسٹل اور رہائش کی مشکلات، بعض شعبوں میں تدریسی امور اور تعلیمی رہنمائی سے متعلق شکایات بھی طلبہ کے مطابق توجہ طلب ہیں۔
طلبہ نے مزید کہا کہ عبداللہ ہال، نارتھ ڈائننگ اور دیگر ہالوں میں ڈائننگ سے متعلق مسائل، یونیورسٹی کی زمین سے متعلق معاملات، معطلی سے متعلق خدشات اور نئے طلبہ کے لیے رہائش کی کمی جیسے مسائل بھی موجود ہیں۔ ان کے مطابق STEM شعبوں کے ریسرچ اسکالرز کے تحقیقی آلات کے خراب یا غیر فعال ہونے اور نئے آلات کی دستیابی سے متعلق بھی تشویش پائی جاتی ہے۔
طلبہ نے یونیورسٹی میں بدعنوانی کے الزامات کی بھی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ سے متعلق تمام شکایات کی غیر جانب دارانہ اور شفاف طریقے سے جانچ ہونی چاہیے۔ طالبات نے کیمپس میں طالبات کی سلامتی اور فلاح و بہبود سے متعلق مسائل پر بھی انتظامیہ کی توجہ مبذول کرانے کی بات کہی، تاہم کسی بھی حساس معاملے کو سیاسی یا انتظامی تنازع بنانے کے بجائے شفاف طریقے سے حل کرنے پر زور دیا۔
احتجاجی طلبہ نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ بوائز اور گرلز ہالز کے ساتھ ساتھ تمام شعبہ جات کے طلبہ اپنے جائز مسائل کے لیے پرامن اور جمہوری طریقے سے سامنے آئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ یونین طلبہ کی اجتماعی نمائندگی کا اہم پلیٹ فارم ہے اور منتخب نمائندوں کے ذریعے ہی مختلف مسائل کو منظم انداز میں انتظامیہ کے سامنے اٹھایا جاسکتا ہے۔
طلبہ نے مطالبہ کیا کہ طلبہ یونین انتخابات کی تاریخ کا باضابطہ اعلان کیا جائے اور انتخابات کے لیے واضح، شفاف اور مقررہ وقت پر عمل درآمد ہونے والا طریقہ کار سامنے لایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ووٹر لسٹ، انتخابی شیڈول، نامزدگی، جانچ، ووٹنگ، گنتی اور نتائج کے اعلان سمیت تمام مراحل واضح کیے جانے چاہئیں۔
طلبہ نے وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون سے اپیل کی کہ وہ طلبہ کے مسائل سننے کے لیے ان سے ملاقات کریں اور طلبہ یونین انتخابات کے معاملے پر واضح موقف اختیار کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ بھی اسی یونیورسٹی کا حصہ ہیں اور ان کی آواز سنی جانی چاہیے۔
احتجاج میں شامل طلبہ و طالبات نے واضح کیا کہ وہ اپنے مسائل اور طلبہ یونین کی بحالی کا مطالبہ پرامن اور جمہوری طریقے سے انتظامیہ کے سامنے رکھتے رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کی منتخب نمائندگی کے ذریعے ہی کیمپس کے مختلف مسائل کو اجتماعی طور پر اٹھانے اور ان کے حل کے لیے مؤثر کوشش کی جاسکتی ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ