
نئی دہلی، 26 ستمبر (ہ س): ۔
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ ترون چغ نے ’بھجن کلبنگ‘ سے متعلق کانگریس کے بیان کو بھارتی ثقافت، بھکتی روایت اور سناتن اقدار کی توہین قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج پوری دنیا میں بھارتی بھجن اور بھکتی موسیقی کے تئیں نوجوانوں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ ملک اور بیرون ملک کے نوجوان ’بھجن کلبنگ‘ جیسے نئے ذرائع کے ذریعے بھارتی روحانی روایت سے جڑ رہے ہیں۔
انہوں نے ہفتہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ کانگریس کے کچھ رہنما اب بھی ”اٹلی کے چشمے“ سے بھارت کو دیکھتے ہیں اور اپنی سیاست کے لیے بھارتی ثقافت کا مذاق اڑاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں بھی بھکتی روایت کی مخالفت کرنے والی طاقتیں رہی ہیں اور آج وہی ذہنیت ایک نئی شکل میں نظر آ رہی ہے۔
انہوں نے اسے افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی بھکتی اور روحانی روایت میں نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ کانگریس رہنما پریانک کھرگے نے وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے پاس ’بھجن کلبنگ‘ جیسے پروگراموں میں شرکت کرنے کا وقت ہے، لیکن الیکشن کمیشن اور جمہوریت سے متعلق سنگین سوالات کا جواب دینے کا وقت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 13 برسوں سے مشکل سوالات کے سامنے حکومت کی جانب سے جواب دہی کے بجائے خاموشی کا رویہ دیکھنے کو ملتا رہا ہے۔ ان کے مطابق جہاں جشن اور تقریبات ہوتی ہیں وہاں وزیر اعظم کی موجودگی نظر آتی ہے، لیکن جواب دہی سے متعلق سوالات پر ان کی خاموشی رہتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ