
جموں, 26 ستمبر (ہ س): لداخ کی صورتحال کا چین کے زیرِ قبضہ تبت سے موازنہ کرنے پر پیدا ہونے والے تنازعہ کے بعد ماہر تعلیم اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے معذرت کرلی ہے۔ وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ وہ صرف ایک مخصوص دن پیش آنے والے ایک واقعے کا موازنہ کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد کسی کو، خصوصاً اپنے تبتی دوستوں کو، دکھ پہنچانا نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ وہ تبت کے عوام کے دکھ اور تکلیف کو سمجھتے ہیں اور چین کی جانب سے تبت میں جبر کی ہمیشہ مخالفت کرتے رہے ہیں۔
وانگچک کے مطابق ان کا مقصد صرف یہ بتانا تھا کہ گزشتہ سال 24 ستمبر کو لیہہ میں پیش آنے والے واقعے کے دوران لداخ کے لوگوں نے کس قدر مشکل صورتحال کا سامنا کیا۔وانگچک نے کہا کہ اگر ان کے بیان سے کسی کو تکلیف پہنچی ہے تو وہ دل سے معذرت خواہ ہیں۔اس سے قبل وانگچک نے لیہہ میں گزشتہ سال ہونے والے تشدد کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ واقعے میں چار افراد ہلاک، ایک شخص نے خودکشی کی اور تقریباً 80 افراد زخمی ہوئے، جبکہ 75 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا تھا کہ لیہ میں ہونے والے تشدد کے دوران پولیس کا غلط استعمال کیا گیا۔ وانگچک نے کہا تھا کہ لداخ نے بھارت کو اس امید پر منتخب کیا تھا کہ یہاں جمہوری نظام اور شہریوں کو وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق حاصل ہو گا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر