وباؤں سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون اور باہمی یکجہتی ضروری: بھارت
نئی دہلی، 26 ستمبر (ہ س):۔ بھارت نے مستقبل میں وباؤں کی روک تھام، تیاری اور مؤثر طریقے سے ان سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون اور باہمی یکجہتی پر زور دیا ہے۔ بھارت نے کہا ہے کہ وباؤں سے نمٹنے کی تیاری ایک مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس میں مساوات اور عا
وباؤں سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون اور باہمی یکجہتی ضروری: بھارت


نئی دہلی، 26 ستمبر (ہ س):۔

بھارت نے مستقبل میں وباؤں کی روک تھام، تیاری اور مؤثر طریقے سے ان سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون اور باہمی یکجہتی پر زور دیا ہے۔ بھارت نے کہا ہے کہ وباؤں سے نمٹنے کی تیاری ایک مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس میں مساوات اور عالمی یکجہتی کو مرکزی حیثیت دینی ہوگی۔

مرکزی صحت سکریٹری پنیہ سلیلا شری واستو نے جمعہ کو نیویارک میں واقع اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں وباؤں کی روک تھام، تیاری اور ردعمل کے موضوع پر منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں بھارت کا موقف پیش کیا۔ بھارت نے کہا کہ کووڈ-19 وبا سے حاصل ہونے والے تجربات کو صرف ماضی کا تجربہ سمجھ کر محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ ان تجربات کی بنیاد پر صحت کے نظام کو مضبوط بنانے، ادارہ جاتی صلاحیت بڑھانے اور مستقبل کی وباؤں سے نمٹنے کے لیے مسلسل سرمایہ کاری ضروری ہے۔

صحت سکریٹری نے بتایا کہ بھارت میں لیبارٹری نیٹ ورک، ہنگامی حالات میں تال میل کا نظام، صحت کارکنوں کی صلاحیت، ضروری طبی ذخائر اور علاج کی سہولیات کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔ ان کوششوں کو قومی صحت کے نظام اور ملکی مالی وسائل سے جوڑا جانا چاہیے، جبکہ بین الاقوامی تعاون کو قومی کوششوں کے معاون کے طور پر کام کرنا چاہیے۔

سو ممالک کو 30 کروڑ ویکسین کی خوراکیں فراہم کیں

کووڈ-19 کے دوران بھارت کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ بھارت نے تقریباً 100 ممالک اور اقوام متحدہ کے دو اداروں کو 30 کروڑ ویکسین کی خوراکیں فراہم کیں۔ اس کے علاوہ 150 سے زائد ممالک کو طبی امداد بھی فراہم کی گئی۔ اسے ”ایک زمین، ایک صحت“ کے جذبے اور ترقی پذیر ممالک کے تئیں بھارت کے عزم سے جوڑا گیا۔

ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کو عالمی عوامی وسائل کے طور پر ترقی دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کووڈ-19 کے دوران ڈیجیٹل ذرائع نے انفیکشن کی نگرانی، ویکسینیشن، خطرات سے متعلق معلومات، طبی سامان کی فراہمی اور صحت خدمات کو مسلسل جاری رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

اقوام متحدہ کی نائب سکریٹری جنرل امینہ محمد نے بھی وباو¿ں کے خطرے کے حوالے سے بے فکری سے بچنے کی اپیل کی۔ انہوں نے انفیکشن کی ابتدائی شناخت اور روک تھام کے لیے کمیونٹی سطح پر نگرانی اور اطلاعاتی نظام کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔

اجلاس میں مستقبل کی صحت سے متعلق ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے لچکدار، مساوی اور پائیدار صحت کے نظام تیار کرنے کی حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ہندوسھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande