ریستوران میں تنازعہ کے بعد فائرنگ، تین افراد زخمی
مشرقی سنگھ بھوم، 26 ستمبر (ہ س)۔ سوناری تھانہ علاقے کے میرین ڈرائیو واقع بندل مال احاطے میں ہفتہ کو اس وقت افراتفری مچ گئی، جب اڈوپی ریستوران میں کھانا کھانے پہنچے تین افراد کا کچھ نوجوانوں سے تنازعہ ہوگیا۔ تنازعہ کے بعد پہلے دونوں فریقوں کے درمیان
JH-THREE-INJURED-FIRING


مشرقی سنگھ بھوم، 26 ستمبر (ہ س)۔ سوناری تھانہ علاقے کے میرین ڈرائیو واقع بندل مال احاطے میں ہفتہ کو اس وقت افراتفری مچ گئی، جب اڈوپی ریستوران میں کھانا کھانے پہنچے تین افراد کا کچھ نوجوانوں سے تنازعہ ہوگیا۔ تنازعہ کے بعد پہلے دونوں فریقوں کے درمیان مارپیٹ ہوگئی اور پھر تین سے چار نوجوانوں نے فائرنگ کردی۔ گولی لگنے سے تین افراد زخمی ہوگئے۔ واقعے کے بعد حملہ آور موقع سے فرار ہوگئے۔

زخمیوں کی شناخت ڈومینک سیمسن، ایم ڈی رضوان اور ایم ڈی دلشاد کے طور پر ہوئی ہے۔ ڈومینک سیمسن آدتیہ پور، ایم ڈی رضوان آزاد نگر اور ایم ڈی دلشاد کپالی کے رہنے والے بتائے جا رہے ہیں۔ تینوں کو فوری علاج کے لیے ٹاٹا مین اسپتال (ٹی ایم ایچ) لے جایا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ ڈومینک سیمسن کو جے ایم ایم رہنما کے ساتھ زمین کے کاروبار سے وابستہ شخص بھی بتایا جا رہا ہے۔

موقع پر موجود لوگوں کے مطابق ڈومینک سیمسن، ایم ڈی رضوان اور ایم ڈی دلشاد بندل مال میں واقع اڈوپی ریستوران میں کھانا کھانے پہنچے تھے۔ اسی دوران وہاں تین سے چار نوجوان پہنچے۔ کسی بات کو لے کر ان کے درمیان بحث شروع ہوگئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے تنازعہ بڑھ گیا اور نوجوانوں نے تینوں کے ساتھ مارپیٹ شروع کردی۔ اس کے بعد اچانک فائرنگ کردی گئی۔ گولی چلنے کے بعد مال احاطے میں افراتفری مچ گئی اور لوگ محفوظ مقامات کی جانب بھاگنے لگے۔ پولیس تمام پہلوو¿ں کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایس ایس پی احتشام وقاری، سٹی ایس پی للت مینا اور سوناری تھانے کی پولیس موقع پر پہنچی اور جائے وقوعہ کا جائزہ لیا۔ پولیس نے مال احاطے اور آس پاس موجود لوگوں سے پوچھ گچھ کرکے واقعے کی مکمل معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اس کے ساتھ ہی آس پاس نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی دیکھی جا رہی ہے تاکہ فائرنگ میں شامل نوجوانوں کی شناخت کی جاسکے۔

پولیس یہ معلوم کرنے میں مصروف ہے کہ تنازعہ کس بات کو لے کر شروع ہوا تھا اور حملہ آور اپنے ساتھ ہتھیار لے کر کیوں پہنچے تھے۔ پولیس کے لیے زخمیوں کے بیانات کو بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ ان کے بیانات کی بنیاد پر واقعے کی وجہ اور ملزمان کی شناخت کے حوالے سے صورت حال واضح ہونے کی امید ہے۔ فی الحال پولیس نے تحقیقات تیز کردی ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے ممکنہ ٹھکانوں کے بارے میں معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande