ٹرمپ کے اسٹیٹ ڈنر میں شی جن پنگ نے امریکہ اور چین کے 250 سالہ تعاون کو یاد کیا
واشنگٹن، 25 ستمبر (ہ س)۔ چین کے صدر شی جن پنگ نے امریکہ کے اپنے سرکاری دورے کے دوران جمعرات کو امریکی تاریخ کے 250 برسوں میں امریکہ اور چین کے درمیان تبادلے اور تعاون کے مختلف ادوار کو یاد کیا۔ شی نے جارج واشنگٹن اور رچرڈ نکسن کا ذکر کرتے ہوئے دوسر
Xi-Jinping-US-China-Cooperatio


واشنگٹن، 25 ستمبر (ہ س)۔ چین کے صدر شی جن پنگ نے امریکہ کے اپنے سرکاری دورے کے دوران جمعرات کو امریکی تاریخ کے 250 برسوں میں امریکہ اور چین کے درمیان تبادلے اور تعاون کے مختلف ادوار کو یاد کیا۔ شی نے جارج واشنگٹن اور رچرڈ نکسن کا ذکر کرتے ہوئے دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپان کے خلاف چین اور امریکہ کی افواج کے درمیان تعاون کا حوالہ دیا اور اسے ”خون اور آگ میں پروان چڑھنے والی دوستی“ قرار دیا۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق، وائٹ ہاو¿س میں منعقدہ اسٹیٹ ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے چینی صدر شی جن پنگ نے سب سے پہلے جارج واشنگٹن کی چینی پورسلین کے برتن جمع کرنے میں دلچسپی کا ذکر کیا۔ انہوں نے دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپان کے خلاف چینی اور امریکی افواج کے درمیان تعاون کا حوالہ دیتے ہوئے اسے ”خون اور آگ میں بنی دوستی“ قرار دیا۔

اس کے بعد شی نے 1972 میں امریکہ کے سابق صدر رچرڈ نکسن کے چین کے تاریخی دورے کو یاد کیا۔ نکسن اور چین کے پہلے رہنما ماو¿تز ے تنگ کے درمیان ہاتھ ملا نے کے واقعے نے امریکہ اور چین کے تعلقات کو معمول پر لانے کے عمل کی شروعات کی۔ مستقبل میں تعاون پر زور دیتے ہوئے شی نے کہا، ”اس دریا کی طرح جو کبھی بہنا نہیں چھوڑتی، تاریخ بھی کبھی نہیں رکتی۔“

انہوں نے کہا، ”آئیے ہم سب مل کر چین اور امریکہ کی دوستی کے خوبصورت پھولوں کی آبیاری کریں۔ آئیے ہم سب مل کر اپنے دوستانہ تعلقات کا ایک نیا باب لکھیں۔“شی نے اپنی تقریر کے اختتام پر کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ”میک امریکہ گریٹ اگین“ ایجنڈا چین کے ”عظیم قومی احیا“ کے ہدف کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا، ”چین اور امریکہ کو ذمہ دار بڑی طاقتوں کی حیثیت سے کام کرنا چاہیے، اپنے عوام کی امیدوں پر پورا اترنا چاہیے، وقت کے تقاضوں کے ساتھ قدم ملا کر چلنا چاہیے اور بڑی طاقتوں کے ایک دوسرے کے ساتھ پرامن طور پر رہنے کا نیا طریقہ تلاش کرنا چاہیے۔“

شی جن پنگ نے مئی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی گزشتہ سربراہی ملاقات میں استعمال کیے گئے بعض اہم الفاظ کو ایک بار پھر دہرایا۔ اس سے ان کے پیغام اور بیجنگ کی مسلسل برقرار رہنے والی تشویشوں میں تسلسل کا اشارہ ملتا ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ چین اور امریکہ کو جنگ میں الجھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ شی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تعاون کے ذریعے اہم تشویش کے شعبوں میں استحکام لایا جا سکتا ہے۔

وائٹ ہاو¿س میں منعقدہ اسٹیٹ ڈنر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ نے ایک دوسرے کی بھرپور تعریف کی۔ ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں شی کا واشنگٹن کا یہ پہلا دورہ ہے۔ شی جمعہ کو وائٹ ہاو¿س میں چائے اور نیشنل آرکائیوز کے دورے کے ساتھ اپنا دورہ مکمل کریں گے۔

ٹرمپ نے اس موقع پر امریکہ اور چین کے درمیان ”تجارت اور باہمی احترام کی بنیاد“ کو سراہا۔ انہوں نے کہا، ”صدر شی اور میں دونوں سمجھتے ہیں کہ ہم مختلف نظاموں کی نمائندگی کرتے ہیں، لیکن ہمارے عوام کے درمیان تعلقات برقرار ہیں۔“

اسٹیٹ ڈنر کے دوران مرکزی میز پر ٹرمپ اور شی کے ساتھ امریکہ کی چار بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے عہدیدار بھی بیٹھے نظر آئے۔ ان میں این ویڈیا کے جینسن ہوانگ، اے ایم ڈی کی سی ای او لیزا سو، ٹیسلا کے ایلون مسک اور ایپل کے سابق سی ای او ٹم کک شامل تھے۔

اسٹیٹ ڈنر کے دوران ٹرمپ نے شی کو ’بالڈ ایگل‘ یعنی امریکی عقاب کی ایک مورتی بھی تحفے میں دی۔ ٹرمپ نے کہا، ”بالڈ ایگل امریکہ کی قومی علامت ہے اور یہ امریکہ کی آزاد اور بلند پرواز روح کی علامت ہے۔“

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande